خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 668 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 668

خطبات مسرور جلد 13 668 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء حقیقت میں نبی آ سکتا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ اس شخص نے جب میرا یہ جواب سنا تو وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ چلو جی اے بالکل خراب ہو گئے۔اب ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اس پر میں نے اس سے کہا کہ مجھے یہ تو بتا دو کہ بات کیا تھی تو اس نے کہا بات یہ ہے کہ آپ کے مرزا صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا الہام نازل ہوتا ہے اور میں ایک نبی کے مشابہ ہوں۔حضرت خلیفہ اول نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ بیشک مرزا صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ درست ہے اور مجھے اس پر ایمان ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 28 صفحہ 209-210) ایک واقعہ جو براہِ راست حضرت خلیفہ اول سے تعلق تو نہیں رکھتا لیکن رکھتا بھی ہے ان کی بہن کا واقعہ ہے جس کو حضرت خلیفہ اول نے ایک پیر صاحب سے سوال جواب کی رہنمائی کی تھی۔ان کی بہن نے احمدیت قبول کی اور وہ کسی ایک پیر کی مرید تھیں اور پیر نے انہیں بیعت کے بعد ورغلانے کی کوشش کی۔آج بھی یہی آجکل کے پیروں کا حال ہے۔اس کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک بہن ایک پیر صاحب کی مرید تھیں۔وہ قادیان میں آئیں۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی۔جب واپس گئیں تو ان کے پیر صاحب کہنے لگے کہ تجھے کیا ہو گیا کہ تو نے مرزا صاحب کی بیعت کر لی۔معلوم ہوتا ہے کہ نورالدین نے تجھ پر جادو کر دیا ہے۔وہ آئیں تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے اس کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا اگر پھر کبھی پیر صاحب سے ملنے کا اتفاق ہو تو انہیں کہنا کہ آپ کے عمل آپ کے ساتھ ہیں اور میرے عمل میرے ساتھ ہیں۔میں نے تو مرزا صاحب کو اس لئے مانا ہے کہ اگر آپ کو نہ مانا تو قیامت کے دن مجھے جوتیاں پڑیں گی۔آپ بتائیں کہ آپ اس دن کیا کریں گے۔پیر صاحب سے پوچھنا۔جب وہ واپس گئیں تو انہوں نے پیر صاحب سے یہی بات کہہ دی۔وہ پیر کہنے لگا کہ یہ نورالدین کی شرارت معلوم ہوتی ہے اسی نے تجھے یہ بات سمجھا کر میرے پاس بھیجا ہے مگر تمہیں اس بارے میں کسی گھبراہٹ کی ضرورت نہیں۔جب قیامت کا دن آئے گا اور پل صراط پر سب لوگ اکٹھے ہوں گے تو تمہارے گناہ میں خود اٹھالوں گا اور تم دگر دگر کرتے ہوئے جنت میں چلے جانا۔انہوں نے کہا پیر صاحب ہم تو جنت میں چلے گئے پھر آپ کا کیا بنے گا۔وہ کہنے لگے جب فرشتے میرے پاس آئیں گے تو میں انہیں لال لال آنکھیں دکھا کر کہوں گا کہ کیا ہمارے نا نا امام حسین کی شہادت کافی نہیں تھی کہ آج قیامت کے دن ہمیں بھی ستایا جارہا ہے۔پس یہ سنتے