خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 666 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 666

خطبات مسرور جلد 13 666 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء لوگوں نے کوشش کی کہ اس سکول کو تو ڑ کر صرف عربی کا ایک مدرسہ قائم رکھا جائے کیونکہ جماعت دوسکولوں کے بوجھ برداشت نہیں کر سکتی اور اس پر اتفاق جماعت اتنا زبردست تھا ( یعنی وہ جو ممبران تھے )۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں جہاں تک میں سمجھتا ہوں شاید ڈیڑھ آدمی سکول کی تائید میں رہ گیا تھا۔ایک تو حضرت خلیفہ امسیح الاول تھے اور حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ آدھا میں اپنے آپ کو کہتا ہوں کیونکہ اُس وقت میں بچہ تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو جوش مجھے اس وقت سکول کے متعلق تھا وہ دیوانگی کی حد تک پہنچا ہوا تھا اور حضرت خلیفہ اسیح الاول چونکہ ادب کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے بات نہ کر سکتے تھے اس لئے آپ نے مجھے اپنا ذریعہ اور ہتھیار بنایا ہوا تھا۔وہ مجھے بات بتا دیتے اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہنچا دیتا۔آخر اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی عطا کی اور باوجود یکہ بعض جلد باز دوستوں نے قریبا ہم پر کفر کا فتویٰ لگا دیا کہ اگر یہ سکول بند نہ کیا تو گو یا کہ تم لوگ کفر کر رہے ہو اور کہا یہ دنیا دارلوگ ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کو بھی اور حضرت مصلح موعودؓ کو بھی کہنے لگے یہ لوگ دنیا دار ہیں کیونکہ انگریزی تعلیم کی تائید کرتے ہیں۔پھر بھی فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے حق میں کیا۔(ماخوذ از خطبات محمود دجلد 13 صفحہ 480-481) اس واقعہ سے سکول کے جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں جو باتیں ہیں وہ تو ہیں لیکن حضرت خلیفہ اسیح الاول کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے بات کرنے کے ادب اور احترام کا بھی پتا چلتا ہے۔شاید آپ کو یہ بھی خیال ہو کہ معاملہ کو پیش کرتے وقت جوش میں کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ادب کے خلاف ہو۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی فراست کا ذکر کرتے ہوئے ، آپ کے ایمان کا ذکر کرتے ہوئے اور یہ بیان کرتے ہوئے کہ قومیں کس طرح بنتی ہیں حضرت مصلح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ افراد سے قو میں بنتی ہیں اور قوموں سے افراد بنتے ہیں۔اعلیٰ دماغوں کے مالک ذہین اور نیک انسان قوموں کو بہت زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں اور اعلیٰ اور نیک مقاصد ا چھے اور ہوشیار لوگوں کے ہاتھ آ کر بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔اور پھر یہ بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی جماعت قائم کی۔آپ کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے یہی سلوک کیا کہ آپ کے دعوی کے ابتدا میں ہی بعض ایسے افراد آپ علیہ السلام پر ایمان لائے جو کہ ذاتی جوہر کے لحاظ سے بہترین خدمات سرانجام دینے والے تھے اور اس کام میں آپ کی مدد کرنے والے تھے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے سپر د کیا تھا اور ان میں