خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 654
خطبات مسرور جلد 13 654 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 نومبر 2015ء بینن کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ انہوں نے یہاں کو تو نو جماعت کے صدر صاحب کو تحریک جدید کے چندہ کی ادائیگی کرنے والے افراد کی جنہوں نے وعدے کئے ہوئے تھے فہرست بھجوائی تو ایک پرانے احمدی دوست کا نام چندہ دہندگان میں لکھا ہوا تھا۔جب انہیں توجہ دلائی گئی تو اگلے روز مشن ہاؤس آئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ نے کسی کو دیکھا ہے جس نے ایک ہفتے سے کھانا نہ کھایا ہو۔کہتے ہیں غربت کا یہ حال ہے کہ میں ساری رات روتا رہا ہوں کہ میں نے چندہ تحریک جدید ادا کرنا ہے اور میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔شاید اللہ تعالیٰ میری آزمائش کر رہا ہے۔اس کے بعد انہوں نے معمولی سی رقم تحریک جدید کی مد میں ادا کی اور کہا کہ اس وقت میرے پاس یہی کچھ ہے۔اور شاید وہ رقم بھی کہیں سے قرض لے کر آئے ہوں۔انہوں نے اپنی بھوک مٹانے کے لئے ( رقم ) استعمال نہیں کی بلکہ چندہ دیا۔اس پر یہ جو لینے والے صاحب گئے تھے کہتے ہیں خاکسار نے ان کو کچھ رقم مدد کے طور پر دی کہ آپ کی تو یہ حالت ہے۔چندہ کیا دینا ہے؟ آپ کی مدد کر رہا ہوں۔اور ان کو مدد کے طور پر رقم دی تو انہوں نے دس ہزار فرانک سیفا اسی وقت واپس کر دیا اور کہا کہ ابھی میرا چندہ عام بقایا ہے۔آپ اس رقم میں سے میرا چندہ کا بقایا کاٹ لیں۔تو یہ ہے اخلاص و وفا جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ بدن پر کپڑے نہیں لیکن اخلاص میں بڑھے ہوئے ہیں۔پھر قادیان سے نائب وکیل المال تحریر کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو ڈ یا تھور ( یا جو بھی لفظ ہے) میں خطبہ جمعہ میں تحریک جدید کی اہمیت بیان کی گئی اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کی آواز پر والہا نہ لبیک کرنے والے مخلصین کی بعض قربانیوں کا ذکر کیا گیا۔اس پر وہاں کی جماعت کی صدر لجنہ اماءاللہ جمعہ کے بعد گھر گئیں اور جا کر اپنے سونے کا ایک وزنی کنگن استار کرتحریک جدید میں پیش کر دیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی خواتین میں بھی دینی ضروریات کی خاطر اپنا زیور پیش کرنے کی بے شمار مثالیں ہر جگہ نظر آتی ہیں۔دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والی احمدی خواتین کی یہ روح، یہ قدر مشترک ہے کہ دین کی خاطر اپنا پسندیدہ زیور قربان کرنا ہے اور یہ آج صرف احمدی خواتین کا ہی خاصہ ہے۔جرمنی کے نیشنل سیکرٹری تحریک جدید لکھتے ہیں کہ یہاں ایک جماعت بناؤ(Hanau) میں تحریک جدید کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔سیمینارختم ہوتے ہی ایک دوست اپنی بیگم کا زیور لے کر دفتر تحریک جدید آ گئے۔انہوں نے بتایا کہ سیمینار ختم ہونے کے بعد ہم واپس گھر جا رہے تھے تو میں نے اپنی بیگم سے کہا کہ میں نے تو اپنا وعدہ لکھوا دیا ہے۔کیا تم نے بھی کوئی وعدہ لکھوایا ہے؟ اس پر وہ کہنے لگی