خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 653 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 653

خطبات مسرور جلد 13 653 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 نومبر 2015ء دو ہزار لیون چندہ دینا میرے لئے بہت مشکل ہے۔لیکن انہوں نے کہا کہ بہر حال میں نے وعدہ کیا ہے میں ادا کروں گی۔چندہ دینے کے لئے انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنی ایک غیر احمدی بہن سے ادھار رقم لے لیں لیکن بہن نے انکار کر دیا کہ تم نا بینا ہو تمہارے پاس ذرائع بھی ایسے نہیں ہیں پتا نہیں مجھے واپس بھی کر سکو گی یا نہیں۔اس پر وہ نابینا عورت بڑی فکرمند ہوئیں اور جو سیکرٹری تحریک جدید یا مال چندہ لینے گئے تھے انہیں کہنے لگیں کہ کچھ دیر ٹھہر کے واپس آئیں۔چنانچہ وہ دعا میں مصروف ہو گئیں۔اسی دوران ایک اجنبی شخص گاؤں میں آیا اور ان کے پاس سے گزرا۔گھر کے باہر بیٹھی ہوئی تھیں۔تو انہوں نے اس آدمی کو آواز دی۔اس سے کہنے لگیں کہ میرے پاس اس وقت ایک سر پر لینے والا کپڑا ہے وہ دو ہزار لیون میں تم خرید لو۔یہ کہتے ہیں کہ حالانکہ وہ کپڑا دس سے پندرہ ہزار لیون کا تھا۔اس آدمی نے حیران ہو کر پوچھا کہ اتنا ستا کیوں بیچ رہی ہو۔اس پر اس خاتون نے بتایا کہ میں نے چندہ تحریک جدید ادا کرنا ہے اور میرے پاس اس وقت رقم نہیں ہے۔اس اجنبی نے وہ کپڑا خرید لیا اور دو ہزار لیون نابینا عورت کو دے دیئے۔شریف آدمی تھا اور بعد میں وہ کپڑا بھی واپس کر دیا اور کہا یہ میری طرف سے آپ رکھ لیں۔تو افریقہ کے دور دراز علاقے میں رہنے والی ایک ان پڑھ نا بینا خاتون کا یہ اخلاص ہے۔یقیناً یہ اخلاص اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا کردہ ہیں۔پھر بعض اور واقعات پیش کرتا ہوں۔راجھستان انڈیا کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ یہاں ایک جماعت بولا بائی ہے۔وہاں دورے پر گئے تو وہاں ایک دوست جن کی عمر 65 سال کے قریب ہے۔اکثر بیمار رہتے ہیں اور ان کی کوئی آمد نہیں ہے۔سال میں صرف سودن سرکاری مزدوری کا کام ملتا ہے۔ان کی اہلیہ گھر کے گزارے کے لئے کام کرتی ہیں۔گھر کی حالت بھی بہت خستہ تھی۔انہیں جب مالی قربانی کی طرف توجہ دلائی گئی کہ ٹوکن کے طور پر معمولی سی قربانی کر دیں کیونکہ یہ بھی مومنین کے لئے فرض ہے تو ایک ہزار پچاس روپے چندہ کے ادا کر دیئے۔اس پر انہوں نے بڑا حیران ہو کر ان سے پوچھا کہ آپ کے گھر کے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں لیکن اس کے با وجو داتنی بڑی رقم دے رہے ہیں۔یہ سیکرٹری جو بھی ( چندہ لینے گئے تھے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ اس رقم میں سے کچھ رکھنا چاہتے ہیں تو رکھ لیں۔اس پر وہ موصوف رونے لگے اور کہنے لگے کہ یہ رقم میں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر جمع کی تھی اور یہ اللہ تعالیٰ ہی کی رقم ہے۔میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت دے تا کہ میں اس سے زیادہ اپنے رب کے حضور پیش کر سکوں۔پھر اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ایک اور مخلص کا واقعہ نہیں۔یقینا امراء کو یہ ھنجھوڑ نے والا ہے۔