خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 648
خطبات مسرور جلد 13 648 45 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 نومبر 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز راحم فرمودہ مورخہ 06 / نومبر 2015 ء بمطابق 06 رنبوت 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح موردن تشہد و تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ (آل عمران:93) تم ہر گز نیکی کو پانہیں سکو گے یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو تو یقینا اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ہر مومن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ نیکی کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مومنین کو یہ توجہ دلائی کہ اگر تم نیکی کرنے کی خواہش رکھتے ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکو تو یا درکھو کہ نیکی قربانی کو چاہتی ہے۔پس خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے قربانی کرو۔اس چیز کی قربانی کرو جو تمہیں بہت زیادہ عزیز ہے۔اس چیز کی قربانی کرو جس سے تم فائدہ اٹھا رہے ہو، نفع حاصل کر رہے ہو۔اس چیز کی قربانی کرو جو تمہیں آرام اور سہولت مہیا کر رہی ہے۔اس چیز کی قربانی کرو جو بظاہر تمہاری نسلوں کے مستقبل کو سنوارنے کا بھی تمہارے نزدیک ذریعہ ہے۔پس یہ تمام قسم کی قربانیاں کوئی معمولی قربانیاں نہیں ہے۔مال تو ہمیشہ انسان کو پیارا رہا ہے۔اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ سونا، چاندی، جانور، جائیداد، کھیت، باغات یہ سب انسان کو بہت پیارے ہیں اور انسان کے لئے فخر کا باعث ہیں۔یہ ان پر فخر کرتا ہے۔لیکن آجکل کے ماڈی دور میں جبکہ نئی ٹیکنالوجی نے دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے انسانوں کو نہ صرف بہت قریب کر دیا ہے بلکہ اس ٹیکنالوجی اور معاشی نظام نے خواہشات