خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 646 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 646

خطبات مسرور جلد 13 646 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30اکتوبر 2015ء آپ کی بیوی کو بہت تکلیف ہے یہ سب لے جائیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 15 صفحہ 124) اشتعال انگیزی سے بچنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کیا تعلیم ہے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ طاعون طعن سے نکالا ہے اور طعن کا معنی نیزہ مارنا ہیں۔پس وہی خدا جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت آپ کے دشمنوں کے متعلق قہری جلوہ دکھایا وہی اب بھی موجود ہے اور اب بھی ضرور اپنی طاقتوں کا جلوہ دکھائے گا اور ہرگز خاموش نہ رہے گا۔ہاں ! ہم خاموش رہیں گے اور جماعت کو نصیحت کریں گے کہ اپنے نفسوں کو قابو میں رکھیں اور دنیا کو دکھا دیں کہ ایک ایسی جماعت بھی دنیا میں ہو سکتی ہے جو تمام قسم کی اشتعال انگیزیوں کو دیکھ اور سن کرامن پسند رہتی ہے۔(ماخوذ از حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات۔انوارالعلوم جلد 13 صفحہ 512-511) یہ دعا کا قصہ پہلے بھی سنا چکا ہوں کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام درد سے دعا کرتے تھے تو ایک تو بد دعا نہیں دینی۔دوسرے ہر فتنے کی صورت میں ہم نے امن پسند رہنا ہے۔دعا میں خاص حالت پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک رہنمائی فرمائی ہے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ دعا کے وقت حقیقی تضرع اس میں پیدا نہیں ہوتا تو وہ مصنوعی طور پر رونے کی کوشش کرے اور اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کے نتیجہ میں حقیقی رقت پیدا ہو جائے گی۔“ (خطبات محمود جلد 15 صفحہ 166 ) پھر دعا میں کیسی حالت پیدا کرنے کی ضرورت ہے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ ہماری بعض معاملات میں ناکامیاں اور دشمنوں میں اس طرح گھرے رہنا صرف اس لئے ہے کہ ہمارا ایک حصہ ایسا ہے جو دعا میں سستی کرتا ہے۔(اور آج بھی یہ حقیقت ہے ) اور بہت ایسے ہیں جو دعا کرنا بھی نہیں جانتے۔اور ان کو یہ بھی نہیں پتا کہ دعا کیا ہے؟ ( انقلاب انقلاب کی باتیں تو ہم کرتے ہیں لیکن اس میں بہت کمزوری ہے۔) اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ دعا موت قبول کرنے کا نام ہے۔اور آپ فرمایا کرتے تھے جو منگے سومر ر ہے جو مرے سومنگن جائے۔یعنی کسی سے سوال کرنا یا مانگنا ایک موت ہے اور موت وارد کئے بغیر انسان مانگ نہیں سکتا۔جب تک وہ اپنے او پر ایک قسم کی موت وارد نہیں کر لیتا وہ مانگ نہیں سکتا۔پس دعا کا یہ مطلب ہے کہ انسان اپنے اوپر ایک