خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 645
خطبات مسرور جلد 13 645 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اکتوبر 2015ء کے ماننے والے علم پر۔اس لئے مرتے وقت یا خوف کے وقت دہر یہ کہتا ہے کہ ممکن ہے میں ہی غلطی پر ہوں۔ورنہ اگر وہ علم پر ہوتا تو اس کے بجائے یہ ہوتا کہ مرتے وقت دہر یہ دوسروں کو کہتا کہ خدا کے وہم کو چھوڑ دو کوئی خدا نہیں۔مگر اس کے الٹ نظارے نظر آتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی ہستی کی یہ بہت زبر دست دلیل ہے کہ ہر قوم میں یہ خیال پایا جاتا ہے۔(ماخوذ از هستی باری تعالیٰ۔انوار العلوم جلد 6 صفحہ 286) حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت پر آپ علیہ السلام کی دلی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس حالت اور اس کیفیت کا اندازہ اس نوٹ سے لگایا جا سکتا ہے جو آپ نے اپنی ایک پرائیویٹ نوٹ بک میں لکھا اور جسے میں نے نوٹ بک سے لے کر شائع کر دیا۔وہ تحریر آپ نے دنیا کو دکھانے کے لئے نہ کھی تھی کہ کوئی اس میں کسی قسم کا تکلف اور بناوٹ خیال کر سکے۔وہ ایک سر گوشی تھی اپنے رب کے ساتھ اور وہ ایک عاجزانہ پکار تھی اپنے اللہ کے حضور جو لکھنے والے کے قلم سے نکلی اور خدا تعالیٰ کے حضور پہنچی۔آپ نے وہ تحریر نہ اس لئے لکھی تھی کہ وہ دنیا میں پہنچے اور نہ پہنچ سکتی تھی اگر میرے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ اپنی مصلحت کے تحت نہ ڈال دیتا اور میں اسے شائع نہ کر دیتا۔اس تحریر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں : اے خدا! میں تجھے کس طرح چھوڑ دوں جبکہ تمام دوست و غمخوار مجھے کوئی مددنہیں دے سکتے اُس وقت تو مجھے تسلی دیتا اور میری مدد کرتا ہے۔یہ اس کا مفہوم ہے۔(ماخوذ از افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1927ء۔انوار العلوم جلد 10 صفحہ 60) ہر احمدی کے اخلاق کا معیار انتہائی اعلیٰ ہونا چاہیئے۔اس کی بارہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تلقین فرمائی ہے۔اس بارے میں آپ کا اپنا نمونہ کیا تھا اور مخالفین سے بھی آپ کس طرح حسن سلوک فرمایا کرتے تھے اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک دوست نے سنایا کہ ایک دفعہ ہندوؤں میں سے ایک شخص شدید مخالف کی بیوی سخت بیمار ہو گئی۔طبیب نے اس کے لئے جو دوائیں تجویز کیں ان میں مشک بھی پڑتا تھا۔جب کہیں اور سے اسے کستوری نہ ملی تو وہ شرمندہ اور نادم سا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آیا اور آ کر عرض کیا کہ اگر آپ کے پاس مشک ہو تو عنایت فرمائیں۔غالباً اسے ایک یا دورتی مشک کی ضرورت تھی مگر اس کا اپنا بیان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مشک کی شیشی بھر کر لے آئے اور فرمایا