خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 48
خطبات مسرور جلد 13 48 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء حالت رقت اور بے خودی اور تاثر کی پیدا ہو جائے اور سینہ میں انشراح اور ذوق پایا جاوے۔“ ( مکتوبات احمد جلد 1 صفحہ 526 مکتوب بنام میر عباس علی شاہ مکتوب نمبر 13 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ ) اللہ تعالیٰ یہ روح ہم سب میں پیدا کرے۔ہمارے دل سے ایسا درود نکلے جو عرش پر پہنچے اور ہمیں بھی اس سے سیراب کرے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو درود پڑھتے ہیں اور بڑے درد سے پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اس کے فیض کے نظارے بھی دکھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ اس طرح درود پڑھنے والوں کی جماعت میں تعداد بڑھتی چلی جائے جس کا فائدہ جماعتی طور پر بھی ہوگا، جماعتی ترقی میں بھی ہو گا۔حضرت مصلح موعودؓ کا ایک درود کا انداز مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔گو ہم میں سے بعض اس کے قریب قریب پڑھتے ہیں لیکن یہ ایسا انداز ہے جو میں آپ کے سامنے بھی رکھنا چاہتا ہوں جس سے درود کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ذاتی محبت میں ایک نئے رنگ میں اضافہ ہوتا ہے اور جماعتی ترقی کے لئے بھی دعا کا ادراک پیدا ہوتا ہے۔آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ: ”جب ہم دوسرے کے لئے دعا کرتے ہیں تو یہ دعا ایک رنگ میں ہمارے لئے بھی بلندی درجات کا موجب بنتی ہے چنانچہ ہم جب درود پڑھتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجات بلند ہوتے ہیں وہاں ہمارے درجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور اُن کو انعام مل کر پھر اُن کے واسطے سے ہم تک پہنچتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے چھلنی میں کوئی چیز ڈالو تو وہ اس میں سے نکل کر نیچے جو کپڑا پڑا ہو اس میں بھی آ گرتی ہے۔اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے اس اُمت کے لئے بطور چھلنی بنایا ہے۔پہلے خدا اُن کو اپنی برکات سے حصہ دیتا ہے اور پھر وہ برکات ان کے توسط اور ان کے طفیل سے ہمیں ملتی ہیں۔جب ہم درود پڑھتے ہیں اور خدا تعالیٰ اس کے بدلہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارج کو بلند فرماتا ہے تو لازماً خدا تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ تحفہ فلاں مومن کی طرف سے آیا ہے۔( یہ درود کا تحفہ جو دل سے پڑھا گیا ہے یہ فلاں مومن کی طرف سے آیا ہے ) اس پر ان کے دل میں ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ) ہمارے متعلق دعا کی تحریک پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی دعا کی وجہ سے ہمیں اپنی برکات سے حصہ دے دیتا ہے۔“ فرمایا کہ میں اپنے متعلق بتاتا ہوں کہ جب بھی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبر پر دعا کرنے کے لئے آتا ہوں میں نے یہ طریق رکھا ہوا ہے کہ پہلے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعا