خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 49
خطبات مسرور جلد 13 49 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء کیا کرتا ہوں۔اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے دعا کرتا ہوں۔اور دعا یہ کرتا ہوں کہ یا اللہ ! میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو میں اپنے ان بزرگوں کی خدمت میں تحفہ کے طور پر پیش کر سکوں۔میرے پاس جو چیزیں ہیں وہ انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں۔البتہ تیرے پاس سب کچھ ہے اس لئے میں تجھ سے دعا اور التجا کرتا ہوں کہ تو مجھ پر احسان فرما کر میری طرف سے انہیں جنت میں کوئی ایسا تحفہ عطا فرما جو اس سے پہلے انہیں جنت میں نہ ملا ہو۔تو وہ ضرور پوچھتے ہیں کہ یا اللہ! یہ تحفہ کس کی طرف سے آیا ؟“ (جب اللہ تعالیٰ تحفہ دے گا تو وہ ضرور پوچھیں گے کہ یہ تحفہ کس کی طرف سے آیا ) ” اور جب خدا انہیں بتاتا ہے ( کہ کس کی طرف سے آیا ) تو وہ اس کے لئے دعا کرتے ہیں اور اس طرح دعا کرنے والے کے مدارج بھی بلند ہوتے ہیں اور یہ بات قرآن اور احادیث سے ثابت ہے۔اسلام کا مسلمہ اصل ہے اور کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ دعائیں مرنے والے کو ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں۔قرآن کریم نے بھی فحیوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا (النساء: 87) کہہ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ جب تمہیں کو ئی شخص تحفہ پیش کرے تو تم اس سے بہتر تحفہ اسے دو۔ورنہ کم از کم اتنا تحفہ تو ضرور دو جتنا اس نے دیا۔قرآن کریم کی اس آیت کے مطابق جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے دعا کریں گے اور ان پر درود اور سلام بھیجیں گے تو خدا تعالیٰ ہماری طرف سے اس دعا کے نتیجہ میں انہیں کوئی تحفہ پیش کر دے گا۔ہم نہیں جانتے کہ جنت میں کیا کیا نعمتیں ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو ان نعمتوں کو خوب جانتا ہے اس لئے جب ہم دعا کریں گے کہ الہی ! تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوکوئی ایسا تحفہ دے جو اس سے پہلے انہیں نہ ملا ہو تو یہ لازمی بات ہے کہ جب وہ تحفہ انہیں دیا جاتا ہوگا تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی بتایا جاتا ہوگا کہ یہ فلاں شخص کی طرف سے تحفہ ہے۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس علم کے بعد وہ چپ کر کے بیٹھے رہیں اور تحفہ بھجوانے والے کے لئے دعانہ کریں۔ایسے موقع پر بے اختیار ان کی روح اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائے گی اور کہے گی کہ اے خدا! اب تو ہماری طرف سے اس کو بہتر جزاء عطا فرما۔اس طرح فحيوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا۔کے مطابق وہ دعا پھر درود بھیجنے والے کی طرف لوٹ آئے گی اور اس کے درجہ کی بلندی کا باعث ہو گی۔پس یہ ذریعہ ہے جس سے بغیر اس کے کہ کوئی مشرکانہ حرکت ہو ہم خود بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور قوم بھی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔گویا قومی اور فردی دونوں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔66 مزار حضرت مسیح موعود پر دعا اور اس کی حکمت، انوار العلوم جلد 17 صفحہ 190 تا 192)