خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 637
خطبات مسرور جلد 13 637 کر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اکتوبر 2015ء کا خر کنند دعوئے حب پیمبرم اے دل تو نیز خاطر اینان نگاه دار کہ اے میرے دل تو ان لوگوں کے خیالات، جذبات اور احساسات کا خیال رکھا کرتا ان کے دل میلے نہ ہوں۔یہ نہ ہو کہ تنگ آ کر تو بددعا کرنے لگ جائے۔یعنی اپنے آپ کو کہہ رہے ہیں۔آخر ان کو تیرے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور اسی محبت کی وجہ سے جو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے یہ تمہیں گالیاں دیتے ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 33 صفحہ 222-221) پس عوام الناس تو لا علم ہے۔ان کو جو مولوی پڑھاتے ہیں وہ آگے اس کا اظہار کر دیتے ہیں۔آج بھی کئی احمدی اپنے واقعات بھیجتے ہیں کہ جب کسی طرح احمدیت کی حقیقت مخالفین کو بتائی گئی یا کسی شخص کو بتائی گئی جو مخالف تھا تو اس کی کایا پلٹ گئی۔اسی طرح مجھے بھی بعض غیر از جماعت خط لکھتے ہیں کہ کس طرح ان کو احمدیت کی حقیقت معلوم ہوئی اور اب ہمیں پتا چلا ہے کہ مولوی ہمیں کس طرح گمراہ کر رہے تھے۔افریقہ میں کئی ایسے واقعات ہیں جہاں بعد میں جماعتیں قائم ہوئیں اور انہوں نے اظہار کیا کہ ہمیں مولویوں نے غلط رنگ میں احمدیت کے بارے میں بتایا تھا۔پس ہماری دعا یہ ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ امت کو علماء سوء اور غلط لیڈروں سے بچائے اور عوام الناس کو حق پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔پھر اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ حقیقی مسلمان کے لئے یہ مقدر ہے کہ مصائب اور مشکلات اور خطرات پیدا ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے بہتری کے سامان پیدا فرماتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔حضرت مولانا روم کا شعر ہے کہ بر بلائیں قوم را اُودَاده است زیر آں یگ گنج با یتنہا وہ است کہ اس خدا نے قوم پر جو بھی مشکل ڈالی اس کے نیچے اس نے ایک بہت بڑا خزانہ رکھا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ اس کو پڑھ کر ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی قوم یا جماعت واقع میں مسلمان بن جائے تو اس کے تمام مصائب اور تمام خطرات جن میں وہ گرفتار ہو اس کے لئے موجب نجات و ترقی ہو جاتے ہیں اور اس پر کوئی مصیبت نہیں آتی جس کا نتیجہ اس کے لئے سکھ نہیں ہوتا۔یعنی ہر مصیبت جو آتی ہے ہر مشکل جو آتی ہے اس کے پیچھے سکھ اور آسانیاں ہوتی ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 9 صفحہ 167-166 )