خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 635
خطبات مسرور جلد 13 635 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30اکتوبر 2015ء بزرگ ہے یا جسے تم بزرگ کہتے ہو۔بہر حال وزیر نے یہ بات فوراً اس بزرگ کو پہنچا دی اور کہا کہ بادشاہ فلاں دن آپ کے پاس آئے گا۔آپ اس سے اس طرح باتیں کریں تا کہ اس پر اثر ہو جائے اور وہ بھی آپ کا معتقد ہو جائے۔اگر بادشاہ معتقد ہو گیا تو پھر باقی رعایا بھی پوری توجہ دے گی۔بہر حال آپ لکھتے ہیں کہ معلوم نہیں وہ بزرگ تھا یا نہیں مگر جو آگے واقعات ہیں ان سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ بیوقوف ضرور تھا۔جب اسے اطلاع پہنچی کہ بادشاہ آنے والا ہے اور اس سے مجھے ایسے باتیں کرنی چاہئیں جن کا اس کی طبیعت پر اچھا اثر ہو تو اس نے اپنے ذہن میں کچھ باتیں سوچ لیں اور جب بادشاہ اس سے ملنے کے لئے آیا تو کہنے لگا۔بادشاہ سلامت ! آپ کو انصاف کرنا چاہئے۔دیکھئے مسلمانوں میں سے جو سکندر نامی بادشاہ گزرا ہے وہ کیسا عادل اور منصف تھا اور اس کا آج تک کتنا شہرہ ہے۔حالانکہ سکندر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے سینکڑوں سال پہلے بلکہ حضرت عیسی علیہ السلام سے بھی پہلے ہو چکا تھا مگر اس نے سکندر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعد کا بادشاہ قرار دے کر اسے مسلمان بادشاہ قرار دے دیا۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی سینکڑوں سال بعد ہوا تھا کیونکہ سکندر خلافت اربع کے زمانے میں تو ہو نہیں سکتا تھا کیونکہ اس وقت خلفاء کی حکومت تھی۔حضرت معاویہؓ کے زمانے میں بھی نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ اس وقت حضرت معاویہ تمام دنیا کے بادشاہ تھے۔بنو عباس کے ابتدائی ایام خلافت میں بھی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اس وقت بھی وہی رُوئے زمین کے حکمران تھے۔پس اگر سکندر مسلمان تھا تو وہ چوتھی پانچویں صدی ہجری کا بادشاہ ہوسکتا ہے حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سینکڑوں سال پہلے گزرا ہے۔تو وہ جو سینکڑوں سال پہلے کا بادشاہ تھا اسے اس شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی امت میں سے قرار دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے بادشاہ پہ اثر تو کیا ڈالنا تھا، بادشاہ اس سے سخت بدظن ہو گیا اور فوراً اٹھ کر چلا آیا۔تو حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ تاریخ دانی بزرگی کے لئے شرط نہیں ہے مگر یہ مصیبت تو اس خود ساختہ بزرگ نے خود اپنے اوپر سپیری۔اسے کس نے کہا تھا کہ وہ تاریخ میں دخل دینا شروع کر دے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 19 صفحہ 631 تا633) تو اس لئے علم صحیح ہونا چاہئے اور جو بھی بات انسان کرے اس کے بارے میں یہ تسلی ہونی چاہئے کہ اگر وہ تاریخی لحاظ سے ہے تو تاریخ کا صحیح علم ہو اور کوئی علمی بات ہو تو اس کا صحیح علم ہو۔اس شخص کو اس کی نفس کی خواہش نے ہلاک کر دیا۔جب انسان سچائی سے ہٹ کر نام نہاد بزرگی اور علم کا چولہ پہنے یا اس کو