خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 632 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 632

خطبات مسرور جلد 13 632 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اکتوبر 2015ء ہیں اور ایک داماد ڈاکٹر عرفان یہاں لندن میں بھی رہتے ہیں۔کیونکہ یہ تاریخی بات ہے اس لئے میں خطبہ میں کچھ حصہ بیان بھی کر دیتا ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ان کے خطبہ نکاح میں فرمایا تھا کہ آج جس نکاح کے اعلان کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں وہ میرے لڑکے مرزا اظہر احمد کا ہے جو خان سعید احمد خان مرحوم کی لڑکی قیصرہ خانم سعید سے قرار پایا ہے۔قیصرہ خانم پہلے ہی ہماری دوہری رشتہ دار تھیں لیکن اب اس نکاح کی وجہ سے ان کا ہم سے تہرہ رشتہ ہو گیا ہے۔ان کا ایک رشتہ تو یہ ہے کہ وہ کرنل اوصاف علی خان کی پوتی ہیں اور کرنل اوصاف علی خان صاحب نواب محمد علی خان صاحب کے بہنوئی اور خالہ زاد بھائی تھے۔گویا یہ اس شخص کے بہنوئی کی پوتی ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے اپنی لڑکی کا رشتہ دیا بلکہ بعد میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے زمانے میں ان کے بیٹے کو آپ کی دوسری لڑکی کا رشتہ دے دیا گیا۔دوسرا رشتہ جس کی بنا خدا تعالیٰ کے ایک الہام پر ہے یہ ہے کہ یہ خان محمد خان صاحب کپور تھلوی کے بیٹے عبدالمجید خان صاحب کی نواسی ہیں اور خان محمد خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے بہت پرانے صحابی تھے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ افسوس ہے کہ ہماری جماعت اپنی تاریخ کے یاد رکھنے میں نہایت ست واقع ہوئی ہے۔شاید ہی کوئی اور قوم ایسی ہو جوا اپنی تاریخ کو یا درکھنے میں اتنی ست ہو جتنی ہماری جماعت ہے۔عیسائیوں کو لے لو انہوں نے اپنی تاریخ کے یادرکھنے میں اتنی سستی سے کام نہیں لیا اور مسلمانوں نے تو صحابہ رضوان اللہ علیہم کے حالات کو اس تفصیل سے بیان کیا ہے کہ اس موضوع پر بعض کتا بیں کئی کئی ہزار صفحات پر مشتمل ہیں لیکن ہماری جماعت باوجود اس کے کہ ایک علمی زمانے میں پیدا ہوئی ہے اپنی تاریخ کے یادرکھنے میں سخت غفلت سے کام لے رہی ہے۔پس اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔لوگوں کو توجہ دینی چاہئے۔پہلے بھی توجہ دلائی ہوئی ہے کہ اپنی تاریخ کو، اپنی خاندانی تاریخ کو یا درکھنے کی کوشش کریں اور جو صحابہ ہیں ان کا ذکر ہونا چاہئے۔ان کے بارے میں لکھا جانا چاہئے۔کہتے ہیں کہ میں نے بتایا ہے کہ خان محمد خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے پرانے صحابی تھے اور آپ سلسلہ سے اتنی محبت رکھتے تھے کہ جب وہ یکم جنوری 1904ء کو فوت ہوئے تو دوسرے دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں صبح کی نماز کے لئے تشریف لائے اور فرمایا آج مجھے الہام ہوا ہے کہ اہل بیت میں سے کسی شخص کی وفات ہوئی ہے۔حاضرین مجلس نے کہا کہ حضور کے اہل بیت تو خدا تعالیٰ کے فضل سے خیریت سے ہیں۔پھر یہ الہام کسی شخص کے متعلق ہے؟ آپ نے فرمایا خان محمد خان صاحب کپور