خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 630 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 630

خطبات مسرور جلد 13 630 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اکتوبر 2015 ء جامعہ احمدیہ جرمنی کی پہلی کلاس بھی سات سال پورے کر کے اپنا کورس مکمل کر کے اس دفعہ پاس ہوئی ہے۔وہاں 16 مربیان، مبلغین تیار ہوئے ہیں اور ان کا سالانہ کانووکیشن بھی تھا۔اصل مقصد جرمنی جانے کا تو یہی تھا۔وہاں یہ جامعہ 2008ء میں بیت السبوح کی چھوٹی سی بلڈنگ میں چند کمروں میں شروع ہوا تھا۔اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے جامعہ کی باقاعدہ عمارت تعمیر کی ہے جس میں ساری سہولیات ہیں۔کلاس رومز، ہالز ، لائبریری، ہاسٹل وغیرہ سارا کچھ ہے اور اچھی خوبصورت بلڈنگز ہیں تو وہاں کا نووکیشن تھی ، ان کا فنکشن تھا۔وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا رہا۔اللہ تعالیٰ ان فارغ ہونے والے مربیان کو صحیح رنگ میں خدمت دین کی توفیق بھی عطا فرمائے اور وفا کے ساتھ اپنے وقف کو نبھانے کی توفیق بھی دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”ہماری جماعت کے متعلق خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے ہیں۔کوئی انسانی عقل یا دور اندیشی یا دنیوی اسباب ان وعدوں تک ہم کو نہیں پہنچا سکتے۔اللہ تعالیٰ خود ہی اسباب مہیا کر دے گا تب یہ کام انجام کو پہنچے گا۔پھر آپ نے فرمایا کہ: ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 431-430) میں جانتا ہوں کہ خدا نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے اور اسی کے فضل سے اس کا نشو ونما ہورہا ہے۔اصل یہ ہے کہ جب تک خدا تعالٰی کا ارادہ نہ ہو کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور نہ اس کا نشو ونما ہوسکتا ہے۔لیکن جب خدا تعالیٰ کسی کے لئے چاہتا ہے تو وہ قوم بیج کی طرح ہوتی ہے۔جیسے قبل از وقت بیچ کے نشو ونما اور اس کے آثار کوئی نہیں سمجھ سکتا۔اس قوم کی ترقیوں کو بھی محال اور ناممکن سمجھتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 431-430 حاشیہ) ( جس طرح بیچ کا نہیں پتا کہ اُگنا ہے کہ نہیں لیکن جب اُگتا ہے تو پھل پھول لاتا ہے اسی طرح فرمایا کہ اس قوم کی ترقیوں کو بھی لوگ پہلے یہی سمجھتے ہیں کہ پتا نہیں ہوگی کہ نہیں ہوگی )۔پس اللہ تعالیٰ کی تقدیر جب فیصلہ کرتی ہے کہ یہ ہو تو وہ کام ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ وعدہ ہے اور یہ اس کی تقدیر ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت نے پھلنا پھولنا اور بڑھنا ہے۔اور یہی کچھ سلوک اللہ تعالیٰ کا ہر جگہ ہمیں جماعت کے ساتھ نظر بھی آتا ہے۔یہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ رپورٹ جو میں نے بیان کی ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کے کام ہیں۔کسی کی ذات کا یا چند انتظامیہ کے ممبران کا کمال نہیں ہے۔