خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 629
خطبات مسرور جلد 13 629 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23اکتوبر 2015ء مساجد تو امن کے گھر ہیں۔انہوں نے اپنی تقریر میں جو بھی کہا ہے وہ امن کے متعلق ہی کہا ہے۔لوگوں کو ایک دوسرے سے ڈرنے کی بجائے ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہئے۔کہتے ہیں اب یہ باتیں سن کر میرے اندر اس مسجد کے بارے میں کسی قسم کا کوئی خوف باقی نہیں رہا۔پھر ایک دوست وہاں آئے ہوئے تھے۔کہتے ہیں میں دہریہ اور مذہب کا مخالف ہوں لیکن آپ کے خلیفہ نے آج یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہر قسم کے لوگوں کے لئے برداشت کا مادہ رکھتے ہیں اور ان کے عمل سے یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ اسلام برداشت کا مذہب ہے۔خلیفہ کا پیغام تھا کہ ہمیں اپنی رنجشیں اورلڑائیاں ختم کر دینی چاہئیں۔میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ خلیفہ نے جو بھی باتیں بیان فرمائیں ان کی آج سخت ضرورت ہے۔ایک خاتون کہتی ہیں کہ امام جماعت نے جو باتیں کیں ان کی سخت ضرورت تھی۔آج دنیا تقسیم کا شکار ہے لیکن امام جماعت کا پیغام ایسا تھا جو ہم سب کو متحد کر سکتا ہے۔صرف مسلمانوں کو ہی خلیفہ مسیح کی باتیں نہیں سنی چاہئیں بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں اور تمام لوگوں کو آپ کی باتوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔کہتے ہیں کہ اس سارے خطاب کو سن کے میرا اسلام کے بارے میں منفی نظریہ تبدیل ہو گیا اور بالکل مثبت ہو گیا۔یہاں اخباروں نے بھی خبریں دیں۔نورڈ ہورن (Nordhorn) کے ایک مقامی اخبار نے مسجد کی بنیاد کی تفصیلی خبر شائع کی اور یہ لکھا کہ حقیقی مسلمان امن اور محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ہر شخص کا فرض ہے کہ اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرے۔میرے خطاب کے حوالے سے باتیں کیں۔اس کی اشاعت کافی ہے۔ان اخباروں کے ذریعہ تین لاکھ بیس ہزار کے قریب لوگوں تک پیغام پہنچا۔پھر مسجد صادق جو یہیں نورڈ ہورن کی ہے۔یہاں اس کے علاقے کے ٹی وی نے اس حوالے سے دومنٹ کی خبر دی اس کو بھی کئی ملین لوگ دیکھتے ہیں۔اخبارات نے خبریں شائع کیں۔وہاں کے جو مقامی اخبار ہیں ان اخبارات کی مجموعی اشاعت ایک لاکھ ستر ہزار ہے اور سب سے بڑے روز نامہ بلڈ (Bild) کے دو علاقائی ایڈیشنوں میں بھی یہ خبر شائع ہوئی اور بنیاد کے حوالے سے پہلے بھی اس میں دو دفعہ خبر یں شائع ہوئیں۔پھر نورڈ ہورن کی مسجد کی خبر ریڈیو نے بھی دی۔تو مجموعی طور پر وہاں جو دو مسجدوں کے سنگ بنیادر کھے گئے ان کی اخباروں میں جو اشاعت ہوئی ہے اس کے مطابق یہ چارلاکھ نوے ہزار کی اشاعت والے اخبار تھے جن کے ذریعہ سے مسجد کی بنیاد کی یہ خبریں پہنچیں اور اسلام کا پیغام پہنچا۔اور اس کے علاوہ ٹی وی اور ریڈیو چینلز کی جو تعداد ہے کہتے ہیں کہ ان کو سننے والوں کی تعداد تو کئی ملینز میں ہے۔