خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 624 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 624

خطبات مسرور جلد 13 624 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23اکتوبر 2015ء پیرائے میں اور بہت دلکش انداز میں اسلامی تعلیمات کی عکاسی کی ہے۔Amsterdam University کے پروفیسر جو بدھ ازم اور اسلام اور دیگر مذاہب کے ماہر ہیں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امام جماعت نے اسلام کی امن کے حوالے سے تعلیم کا جس واضح انداز میں ذکر کیا ہے اس سے مجھے اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ ہمارے انٹرفیتھ ڈائیلاگ کے پروگراموں میں جماعت کی نمائندگی ناگزیر ہے۔اب جماعت کو ہمارے پروگراموں میں ضرور شریک ہونا چاہئے تا کہ اسلام کی اصل اور حقیقی تصویر ہمارے سامنے آسکے۔اس کے علاوہ بھی وہاں ہالینڈ میں چار پانچ دن جو پروگرام رہے ان میں تو روزانہ ہی کسی نہ کسی اخبار، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے نمائندے آ کر انٹرویو لیتے رہے تھے۔کافی لمبی ان سے باتیں ہوتی رہیں۔آدھے گھنٹے سے لے کر تیس پینتیس منٹ تک ، چالیس منٹ تک بھی ایک ایک انٹرویو ہوا جس میں ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام، دعوئی، اسلام کی تعلیم ، دنیا کا امن ، خلافت وغیرہ کے موضوع پہ بتایا گیا۔تفصیلات تو آپ لوگ پڑھ ہی لیں گے یا دیکھ لیں گے۔بہر حال اس ذریعہ سے جماعت کا وہاں کافی وسیع تعارف ہوا ہے وہاں اور جیسا کہ پروفیسر صاحب نے بھی کہا کہ اس ملک میں بھی اب پڑھے لکھے طبقے میں لوگوں کو تسلیم کرنا پڑ رہا ہے کہ اگر اسلام کے بارے میں حقیقی تعلیم کو جاننا ہے تو پھر احمدیوں کو بہر حال بیچ میں شامل کرنا ہو گا۔جیسا کہ میں نے انٹرویوز کے بارے میں کہا پہلا انٹرویو 15 اکتوبر کون سپیٹ کے ریڈیو چینل آر۔ٹی۔وی نن سپیٹ کے جرنلسٹ نے لیا جو وہاں بیت النور مسجد سے ہی لائیو نشر کیا گیا۔اور اس کی لائیو سٹریمنگ(live streaming) کے ذریعہ پوری دنیا میں سنا گیا۔پھر 5 اکتوبر کو ہی ہالینڈ کے ایک ریجنل ٹیلیویژن سٹیشن گلدرلینڈ (Gelderland) کے جرنلسٹ نے انٹرویو لیا اور اس ٹی وی سٹیشن کے ذریعہ سے بھی اس علاقے میں تقریباً دو ملین سے زیادہ لوگوں کو یہ پیغام پہنچا ہے بلکہ وہ جرنلسٹ خود ہی کہنے لگا کہ یہاں ہماری اہمیت وہی ہے جو آپ کے ہاں بی بی سی کی ہے۔پھر 6 راکتوبر کو ہالینڈ کی نیشنل اخبار کے جرنلسٹ نے انٹرو یولیا اور اس اخبار کی پرنٹ اشاعت تو تھوڑی پچاس ہزار ہے لیکن انٹرنیٹ پر پڑھنے والوں کی تعداد جو ہے وہ لاکھوں میں ہے۔7 اکتوبر کو پھر ایک ریجنل اخبار کے جرنلسٹ آئے انہوں نے انٹرویو لیا۔اس اخبار کی اشاعت بھی ایک لاکھ کے قریب ہے۔پھر 9 اکتوبر کو ہالینڈ کے اخبار کے جرنلسٹ نے انٹر ویولیا اور اس کی تعداد بھی سنا جاتا ہے کافی ہے۔