خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 620 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 620

خطبات مسرور جلد 13 620 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اکتوبر 2015ء اس تقریب میں 89 سر کردہ افراد شامل ہوئے جن میں ڈچ پارلیمنٹ کے ممبران کے علاوہ چین ، آئرلینڈ، سویڈن، کروشیا ، مونٹی نیگرو، البانیا، فرانس، سوئٹزرلینڈ ، جیم ، جرمنی ، انڈیا، فلپائن، ڈنمارک اور سائپرس سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ ، ایمبیسیڈرز اور بعض دوسرے سرکاری حکام اور نمائندگان شامل تھے۔جیسا کہ میں نے کہا جرمنی کی جماعت کے اکثر جگہوں پر اچھی سطح کے لوگوں سے تعلقات ہیں لیکن ابھی تک وہ اس سطح کا پروگرام نہیں کروا سکے۔وہاں ہمارے فنکشنز میں تو بیشک بڑے بڑے لوگ آتے ہیں اور ہماری خدمات کو سراہتے ہیں۔اسلام کی تصویر جو حقیقی تصویر ہے اسے دیکھ کر وہ اظہار خیال کرتے ہیں لیکن وہاں ابھی تک کوئی ایسا پروگرام نہیں ہوا اور پروگرام نہ کرنے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو کہ جرمنی بڑا ملک ہے اور ہالینڈ اس کے مقابلے میں ایک چھوٹا سا ملک ہے۔بہر حال مجھے امید ہے کہ ہالینڈ کی جماعت نے اب جو قدم اٹھایا ہے اور تعلقات بنائے ہیں، اخبارات سے رابطے کئے ہیں، میڈیا سے رابطے کئے ہیں ، وہ اسے مزید آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی اور اب تک جو کام انہوں نے کر دیا اس کو اپنی انتہا نہیں سمجھیں گے۔وہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں جو فنکشن تھا وہاں میں نے اٹھارہ میں منٹ میں مختصر اسلام کی تعلیم اور حالات حاضرہ کے حوالے سے جو مسائل ہیں وہ بیان کئے۔عموماً جہاں بھی میں اسلام کی تعلیم کے حوالے سے ، قرآن کریم کے حوالے سے کچھ کہوں لوگ سمجھتے ہیں اور اظہار بھی کر دیتے ہیں کہ ان کے سوالوں کے کافی جواب مل گئے ہیں لیکن یہاں اس فنکشن میں تین چار پارلیمنٹیرین جو مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے کہا کہ ہم نے اب سوال بھی کرنے ہیں۔میں نے انہیں کہا ٹھیک ہے تسلی نہیں ہوئی تو کر لیں۔اس پر انہوں نے بعض ایسے سوال کئے جو سوائے انہی باتوں کو دہرانے کے اور کچھ نہیں تھے۔لگتا تھا کہ مجھ سے یہ کہلوانا چاہتے ہیں یا کسی نہ کسی موقع پر کہوں کہ اسلام کی تعلیم غلط ہے نعوذ باللہ یا کوئی ایسی بات میرے منہ سے نکل جائے جس سے ان کو اسلام پر کچھ کہنے کا موقع مل جائے اور یہ بات دوسرے ممالک سے آئے ہوئے پارلیمنٹیرین نے بھی محسوس کی اور بعد میں اس کا اظہار بھی انہوں نے کیا کہ ان ایک دو کا یہ رویہ ٹھیک نہیں تھا بلکہ بعض ڈچ جو یہ پروگرام دیکھ رہے تھے یا وہاں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے بھی اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا اور اپنی شرمندگی کا بھی اظہار کیا۔لیکن بہر حال ہمیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ان لوگوں کا خیال تھا کہ وہ شاید مجھے غصہ دلانا چاہتے تھے لیکن بہر حال یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس قسم کی برداشت اللہ نے مجھے بہت دی ہوئی ہے۔لگتا ہے ان میں سے ایک کو خود بھی یہ احساس ہو گیا تھا