خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 616 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 616

خطبات مسرور جلد 13 616 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اکتوبر 2015ء اس لیے فرمایا۔الحمد للہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔رَبّ الْعَالَمِينَ۔سب کو پیدا کرنے والا اور پالنے والا۔اگر محمن۔جو بلا عمل اور بن مانگے دینے والا ہے۔الرحیم۔پھر عمل پر بھی بدلہ دیتا ہے۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیتا ہے۔فرمایا "ملِكِ يَوْمِ الدِّين۔ہر بدلہ اُسی کے ہاتھ میں ہے۔نیکی بدی سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔فرمایا ” پورا اور کامل موحد تب ہی ہوتا ہے (انسان خدا تعالیٰ کی خدائے واحد کی پرستش کرنے والا تبھی ہوتا ہے) جب اللہ تعالیٰ کو ملِكِ يَوْمِ الدین تسلیم کرتا ہے۔دیکھو احکام کے سامنے جا کر ان کو سب کچھ تسلیم کر لینا یہ گناہ ہے ( تم دنیاوی حکام کے سامنے جاتے ہو، افسروں کے سامنے جاتے ہو تو ان کو سب کچھ سمجھ لینا یہ گناہ ہے ) اور اس سے شرک لازم آتا ہے۔اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو حاکم بنایا ہے۔(لیکن اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حاکم بنایا ہے ان سے کس طرح پیش آنا چاہئے ) ان کی اطاعت ضروری ہے ( جہاں تک حاکم کا سوال ہے ان کی اطاعت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حاکم بنایا ہے ) مگر ان کو خدا ہر گز نہ بناؤ“۔( یہ نہ سمجھو کہ صرف وہی تمہارے کام کریں گے۔بعض اپنے افسروں کے سامنے بھی اس طرح مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں خوشامد کر رہے ہوتے ہیں کہ جس طرح نعوذ باللہ وہ خدا ہوں ) فرمایا کہ انسان کا حق انسان کو اور خدا تعالیٰ کا حق خدا تعالیٰ کو دو۔پھر یہ کہو۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین۔ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہم کو سیدھی راہ دکھا۔یعنی ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیے اور وہ نبیوں، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کا گروہ ہے۔اس دعا میں ان تمام گروہوں کے فضل اور انعام کو مانگا گیا ہے۔پھر فرمایا کہ ان لوگوں کی راہ سے بچا جن پر تیرا غضب ہوا اور جو گمراہ ہوئے۔غرض یہ مختصر طور پر سورۃ فاتحہ کا ترجمہ ہے۔اسی طرح پر سمجھ سمجھ کر ساری نماز کا ترجمہ پڑھ لو اور پھر اسی مطلب کو سمجھ کر نماز پڑھو۔( یہ نماز پڑھنے کے آداب ہیں جنہیں سمجھنا چاہئے لیکن بعض لوگ جو تیزی میں پڑھتے ہیں وہ کیا سمجھتے ہوں گے ) فرمایا کہ طرح طرح کے حرف رٹ لینے سے کچھ فائدہ نہیں۔یہ یقیناً سمجھو کہ آدمی میں سچی تو حید آ ہی نہیں سکتی جب تک وہ نماز کوطوطے کی طرح پڑھتا ہے۔روح پر وہ اثر نہیں پڑتا اور ٹھوکر نہیں لگتی جو اس کو کمال کے درجہ تک پہنچاتی ہے“۔فرمایا کہ ”عقیدہ بھی یہی رکھو کہ خدا تعالیٰ کا کوئی ثانی اور بد نہیں ہے اور اپنے عمل سے بھی یہی ثابت کر کے دکھاؤ“۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 257 تا 259) (عقیدہ بھی یہ ہو۔حمل بھی یہ ہو۔قول و فعل ایک ہوں تب ہی انسان ایک صحیح مؤمن بن سکتا