خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 600 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 600

خطبات مسرور جلد 13 600 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 109اکتوبر 2015ء کے والد چوہدری محمد ظفر اللہ وڑائچ صاحب بھی ریٹائرمنٹ کے بعد وقف کر کے بڑا لمبا عرصہ ربوہ میں مختلف دفاتر میں کام کرتے رہے۔حافظ صاحب ، مربی صاحب کی ابتدائی تعلیم ربوہ کی ہے۔اس کے بعد آپ نے حفظ کیا۔سکول کی تعلیم حاصل کی پھر جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔اس کے علاوہ انہوں نے عربی فاضل اور اردو فاضل بھی کیا۔مختلف جگہوں پر پاکستان میں تعینات رہے۔اس وقت بطور سیکرٹری کفالت یکصد یتامی خدمت سر انجام دے رہے تھے۔ان کے پانچ بچے ہیں۔تین بیٹیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں۔دو بچے ابھی چھوٹے ہیں۔سترہ سال اور دس سال۔ان کے بھائی مکرم طاہر مهدی امتیاز صاحب بھی مربی سلسلہ ہیں اور اس وقت ضیاء الاسلام پریس ربوہ کے مینجر ہیں لیکن الفضل پر جو پابندیاں لگی ہیں تو ان پر بھی مقدمہ قائم ہوا اور کافی مہینوں سے یہ جیل میں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی جلد رہائی کے سامان پیدا فرمائے کیونکہ عدالتیں ہی بڑی بزدل ہیں۔حج نے پہلے ضمانت دی اور پھر مولویوں کے ڈر سے کینسل کر دی۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی انصاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور معصوموں کو ، احمدیوں کو جو اندر بند کیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ جلد ان کی رہائی کے سامان پیدا فرمائے۔سعد اللہ پور کے ایک صدر جماعت محبوب احمد راجیکی صاحب ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ 2003ء میں سعد اللہ پور میں جب جماعتی حالات بہت خراب ہوئے تو یہاں حافظ اقبال صاحب کی مربی کے طور پر پوسٹنگ ہوئی۔انہوں نے غیر احمدی مخالفین سے تعلقات بڑھائے اور اس کی وجہ سے نہ صرف مخالفین مخالفت سے باز آئے بلکہ ایک بہت بڑے مخالف نے جو سر کردہ تھا احمدیت کی مخالفت پر معافی بھی مانگی۔تو اس لحاظ سے بھی بڑے تعلق رکھنے والے اور اپنے تعلقات کو بڑھانے والے تھے۔یہ اور بات ہے کہ پاکستان میں خوف کی وجہ سے ملاں کے خوف کی وجہ سے ، معاشرے کے خوف کی وجہ سے بہت بڑا طبقہ باوجود اس کے کہ احمدیت کو پسند کرتا ہے یا کم از کم اس کے خلاف جو پرو پیگنڈہ ہے اس کو غلط سمجھتا ہے لیکن کھل کر کہہ نہیں سکتا۔بہر حال اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے علاقے میں ایسے سامان پیدا فرما تا رہتا ہے کہ جہاں لوگ کھل کر بھی بات کر جاتے ہیں۔اس وقت جہاں کام کر رہے تھے ، جس دفتر میں خدمت سرانجام دے رہے تھے وہاں کے ایک کارکن مجید صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ حافظ صاحب جہاں جہاں بطور مربی سلسلہ رہے وہاں کے افراد سے وفات تک رابطے میں رہے۔لوگ ان سے ملنے آتے رہے اور مشورے لیتے تھے۔ان کی مدد بھی کیا کرتے تھے۔ان کی یہ بھی بڑی خوبی تھی بڑی کوشش یہ ہوتی تھی کہ مرکز کا پیسہ صحیح جگہ خرچ ہو اور بیوگان کے مکان