خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 601 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 601

خطبات مسرور جلد 13 601 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09اکتوبر 2015ء بنانے کے لئے حتی الوسع جو کوشش ہو سکتی تھی کرتے تھے اور یہ بھی کوشش کہ کم پیسوں میں مکان بن جائیں۔پھر بعض دفعہ جب تعمیر ہو رہی ہوتی تھی اور یہ وہاں پہنچے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ خود جا کر کام کرنے والوں کے ساتھ لگ جاتے تھے۔لندن کے ہمارے رشین ڈیسک کے خالد صاحب کہتے ہیں کہ یہ ان کے کلاس فیلو تھے اور بڑے مہمان نواز اور مخلص تھے۔کہتے ہیں ایک خاص بات جو میرے تجربے میں آئی وہ یہ کہ تبلیغ کا ان کو بہت شوق تھا اور ایک لگن تھی۔وہ غالباً جب صادق آباد یا سعد اللہ پور میں متعین تھے تو وہاں ایک رشین کمپنی کسی پراجیکٹ پر کام کر رہی تھی۔باوجود اس کے کہ رشین زبان سے نا آشنا تھے پھر بھی آپ ان کو تبلیغ کرتے تھے اور خالد صاحب نے کیونکہ رشیا میں رہ کر زبان سیکھی ہوئی ہے اس لئے جب یہ پاکستان گئے تو ان کے پیچھے پڑ کے آپ نے کچھ الفاظ سیکھے۔پھر خود ہی انہوں نے رشین زبان کے کچھ الفاظ اردو رسم الخط میں اس لئے لکھے ہوئے تھے کہ تبلیغ کر سکیں۔تو یہ ان کا تبلیغ کا جوش تھا۔اللہ تعالیٰ سب مرتبیان کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ جیسے بھی ماحول ہوں اور حالات ہوں تبلیغ کے نئے نئے رستے تلاش کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ مرحوم حافظ صاحب سے مغفرت اور رحمت کا سلوک فرمائے۔ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کے بیوی بچوں کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور ان کی نیکیاں اپنانے کی توفیق دے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 30 اکتوبر 2015 ء تا05 نومبر 2015 ، جلد 22 شماره 44 صفحہ 05 تا08)