خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 598
خطبات مسرور جلد 13 598 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اکتوبر 2015ء اس تعلق کو آگے خلافت کے لئے بھی رکھنا ضروری ہے۔پرسوں المیر ے (Almere) میں مسجد کا سنگ بنیا د رکھا گیا ہے۔وہاں جو میں نے مختصر امہ کے حوالے سے باتیں کیں۔اسلام کی تعلیم، مسجد کی اہمیت اور احمدیوں کی ذمہ داریوں کے متعلق بتایا تو اس پر ایک لوکل مہمان عورت نے اس بات کا اظہار کیا کہ خلیفہ کی باتیں تو بڑی اچھی ہیں لیکن اب دیکھتے ہیں کہ یہاں رہنے والے احمدی ان پر کس حد تک عمل کرتے ہیں اور امن اور پیار اور محبت کی فضا پیدا کرتے ہیں۔پس لوگوں کی بھی آپ پر نظر ہے۔اس لئے اپنی حالتوں کے جائزے لیتے رہنے کی ضرورت ہے۔لوگ خلافت کے حوالے سے زیادہ نظر رکھیں گے۔اس لئے صرف عہد بیعت کافی نہیں ہے۔اپنی اصلاح کے لئے بھی اور تبلیغ کے لئے بھی عمل کی ضرورت ہے۔ہر جگہ اور ہر سطح پر اپنی اکائی کو قائم رکھنے اور ایک ہاتھ پر اٹھنے اور بیٹھنے کے لئے خلافت کی اطاعت کی بھی ضرورت ہے۔ایم ٹی اے کا اہم کردار اس زمانے میں احمدی خوش قسمت ہیں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے جدید سہولتیں اور ایجادات پیدا فرما ئیں وہاں احمدیوں کو بھی ان سے نوازا۔دین کی اشاعت کے لئے جماعت کو بھی یہ سہولت مہیا فرمائی۔ٹی وی، انٹرنیٹ اور ویب سائٹس وغیرہ پر جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام آج موجود ہے جس پر ہم جب چاہیں پہنچ سکتے ہیں۔مختلف بڑی زبانوں میں ان کو دیکھ بھی سکتے ہیں اور سن بھی سکتے ہیں وہاں خلیفہ وقت کے نصائح اور خطابات بھی وہاں سن پڑھ سکتے ہیں جو قرآن، حدیث ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام پر ہی مشتمل ہوتے ہیں۔اور انہی پر بنیاد ہے اس کی جو دنیا میں آج ایم ٹی اے کے ذریعہ سے ہر جگہ پہنچ رہا ہے۔جس نے جماعت کو اکائی بننے کا ایک نیا انداز دیا ہے۔پس آپ میں سے ہر ایک کو اس بات کو سامنے رکھنا چاہئے اور اس کی ہر ایک کو ضرورت ہے کہ ایم ٹی اے سے اپنا تعلق جوڑیں تا کہ اس اکائی کا حصہ بن سکیں۔ہر ہفتہ کم از کم خطبہ سنے کی طرف خاص توجہ دیں۔ہر گھر اپنے گھروں کے جائزے لے کہ کیا گھر کے ہر فرد نے یہ سنا ہے یا نہیں۔اگر بیوی سنتی ہے اور خاوند نہیں تو تب بھی فائدہ نہیں اگر باپ سنتا ہے اور ماں اور بچے نہیں سن رہے تب بھی کوئی فائدہ نہیں۔یہ انتظام جو اللہ تعالیٰ نے ایک اکائی بننے کے لئے پیدا فرمایا ہے اس کے لئے ایک وقت میں دنیا کے ہر کونے میں خلیفہ وقت کی آواز پہنچ جاتی ہے اس کا حصہ بننے کی ہر احمدی کو ضرورت ہے۔پس اس طرف توجہ کریں۔اگر یہ پتا نہیں کہ کیا کہا جا رہا ہے تو اطاعت کس طرح ہوگی۔باتیں سنیں گے تو اطاعت