خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 592
خطبات مسرور جلد 13 592 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 109اکتوبر 2015ء اس زمانے میں ہماری تربیت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قرآن وسنت کے بارے میں تفسیروں ، تشریحات کو تحریرات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ان کو دیکھنا اور پڑھنا ضروری ہے اور یہ چیزیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔پس کسی کے لئے بھی کوئی عذر نہیں ہے۔لیکن پرانے احمدیوں کو میں یہ بھی کہوں گا کہ آپ کے نمونے دیکھ کر اگر کسی کو ٹھو کرلگتی ہے تو آپ اس غلطی اور گناہ میں حصہ دار ضرور بنتے ہیں۔پس پرانے احمدی جن پر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ ان کے باپ دادا احمدی ہوئے یا انہیں بچپن میں ہی احمدیت مل گئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے یہاں آکر انہیں بہتر حالات میسر آئے انہیں بھولنا نہیں چاہئے کہ وہ جماعت کے زیر احسان ہیں اور اس احسان کے شکرانے کے طور پر انہیں اپنی حالتوں میں غیر معمولی پاک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنی اولادوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے اس احسان کے بارے میں بتاتے رہنا چاہئے اور یہ بھی کہ ان کی کی ذمہ داری ہے اور یہ کہ آپ کے باپ دادا نے جماعت میں شامل ہو کر جو عہد بیعت کیا تھا اسے کس طرح ہم نے ہر وقت سامنے رکھتے ہوئے نبھانے کی کوشش کرتے رہنا ہے۔یہاں آ کر معاشی بہتری جو پیدا ہوئی ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوتے ہوئے ہم نے اپنی نسلوں میں بھی اس تعلیم کو جاری رکھنا ہے۔بچوں کو بتانا ہے کہ تمہیں اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بہتر طور پر نکھارنے کے جو مواقع ملے ہیں اس پر خدا تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے ہوئے ہمیشہ نظام جماعت سے مضبوط تعلق رکھنا ہے۔خلافت احمدیہ سے ہمیشہ وفا اور اطاعت کا تعلق رکھنا ہے۔نظام جماعت اور خلافت سے وفا اور اطاعت کا تعلق اسی طرح ہر احمدی کا یہ کام ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو احمدیت کی طرف منسوب کرتا ہے تو ہمیشہ نظام جماعت سے مضبوط تعلق رکھے اور خلافت احمدیہ سے وفا اور اطاعت کا تعلق رکھنا اس پر فرض ہے کیونکہ یہی بیعت کرتے ہوئے عہد کیا تھا۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ نئے شامل ہونے والے، خاص طور پر وہ جنہوں نے پورے یقین کے ساتھ علی وجہ البصیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو سمجھ کر قبول کیا وہ اپنے عہد بیعت اور اس کی شرائط پر غور بھی کرتے رہتے ہیں۔بہت سارے لوگ مجھے خطوط بھی لکھتے رہتے ہیں۔لیکن بہت سے وہ جو پیدائشی احمدی ہیں یا جن کے ماں باپ نے ان کے بچپن میں احمدیت کو قبول کیا اور جو یہاں آکر دنیاوی معاملات میں زیادہ لگ گئے ہیں وہ نہ ہی عموماً شرائط بیعت پر غور کرتے ہیں، نہ بیعت