خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 586
خطبات مسرور جلد 13 586 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02اکتوبر 2015ء خود کرنے بھی نہیں چاہئیں۔ان کو چاہئے تھا کہ فوراً مجھ سے پوچھتے کہ اس لائیو پروگرام کے لئے اب کیا کیا جائے۔بند کرنے کا جو ان کا ارادہ تھا یا مایوسی تھی یا وہ فوری فیصلہ نہیں کر سکے تو اگر لائیو پروگرام نہ ہوتا تو یہ احمدیوں کو بھی اور دنیا کو بھی یہ پیغام دے رہے ہوتے کہ ہمارا سارا نظام اس واقعہ سے درہم برہم ہو گیا، جو نہیں ہوا۔چنانچہ فوری طور پر مسجد فضل کے سٹوڈیو سے راہ ہدی کا لائیو پروگرام ہوا۔لوگوں کی کالیں آئیں، ان کے جواب بھی دیئے گئے ، اس سے ان کی تسلی تشفی بھی ہوئی۔تو ہمارا کام یہ نہیں ہے کہ نقصان پر مایوس ہو کر بیٹھ جائیں یا اپنی جگہیں چھوڑ کر صرف تماشا دیکھنے کے لئے وہاں جا کر کھڑے ہو جائیں۔بہت سارے لوگ یہاں کھڑے تھے حالانکہ ان کو اپنے اپنے کاموں پر جانا چاہئے تھا بلکہ فوری طور پر ہرممکن متبادل کوشش ہونی چاہئے تھی اور کرنی چاہئے اور پھر باقی اللہ تعالیٰ پر چھوڑ نا چاہیئے۔میر محمود احمد صاحب اُن دنوں میں یہاں تھے انہوں نے بتایا کہ جب ہجرت کے بعد ربوہ آئے ہیں اور اس کی آبادکاری شروع ہوئی تو اس وقت جماعت کی مالی حالت بھی بہت کمزور تھی اور ایک نیا شہر بنانے کا چیلنج تھا۔جماعتی عمارات کی تعمیرات کرنی تھیں، مساجد بنائی تھیں۔بہر حال ایک بیابان جگہ پر ایک شہر ہی بسا نا تھا۔سب کچھ نئے سرے سے تعمیر کرنا تھا۔اُس وقت جب مسجد مبارک تیار ہوئی تو یہ مشہور ہو گیا کہ مسجد کی تعمیر صحیح طور پر نہیں ہوئی۔غالباً چھت کے بارے میں یہ تھا کہ صحیح میٹیریل(material) استعمال نہیں ہوا اور یہ گر جائے گی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز کے لئے تشریف لائے۔آپ دروازے کے اندر کھڑے ہوئے ، دیکھا اور پھر فرمایا کہ کہا یہ جارہا ہے کہ یہ گرسکتی ہے۔اس کا جائزہ لیں۔اگر تو یہ بات صحیح ہے کہ اتنی کمز ور عمارت ہے یا چھت ہے کہ یہ گرسکتی ہے اور دوبارہ بنانی پڑے گی تو پھر ٹھیک ہے جہاں اور آزمائشیں ہیں ایک یہ بھی سہی۔اس زمانے میں پارٹیشن کے بعد تو بڑی آزمائشیں تھیں۔اس وقت جماعت کی مالی حالت کا اندازہ جن کو ہے وہی اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ آج کے اور اُس وقت کے حالات میں بڑا فرق ہے۔تو بہر حال ان باتوں سے ہمیں کبھی گھبراہٹ نہیں ہوئی اور نہ ہونی چاہئے۔اگر یہ واقعہ بھی آزمائش ہے تو ہمیں یہ عہد کرنا چاہئے اور پھر اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ہم دعائیں کرتے ہوئے اس آزمائش سے بھی کامیاب گزریں گے۔مالی لحاظ سے بھی اب جماعت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے۔انشاء اللہ اس نقصان کی بہتر رنگ میں تلافی ہوگی۔یہ نقصان چاہے کسی طرح بھی پہنچا ہے، کسی نے بھی پہنچایا ہے۔ہماری نا اہلی کی وجہ سے ہوا ہے، بے احتیاطی کی وجہ سے ہوا ہے یا حادثاتی طور پر یہ واقعہ ہوا ہے۔جو بھی اس کی وجہ ہے، انشاء اللہ اس کو ہم نے ہی اللہ تعالیٰ کے