خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 575 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 575

خطبات مسرور جلد 13 575 39 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 ستمبر 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز راحم فرمودہ مورخہ 25 رستمبر 2015ء بمطابق 25 تبوک 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفضل۔لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ عبادت میں شوق کس طرح پیدا ہو؟ ہم کوشش کرتے ہیں تب بھی یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔تو یا درکھنا چاہئے کہ بندہ کا کام یہ ہے کہ مستقل مزاجی سے کوشش کرتا رہے۔اس ایمان پر قائم ہو کہ جو کچھ ملنا ہے خدا تعالیٰ سے ہی ملنا ہے، تب ہی وہ کیفیت پیدا ہو سکتی ہے جو خدا تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور پھر عبادت کے شوق کو بڑھاتی ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے بھی کسی نے پوچھا کہ عبادت میں شوق کس طرح پیدا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ: ” اعمال صالحہ اور عبادت میں ذوق وشوق اپنی طرف سے نہیں ہو سکتا۔خود انسان کہے کہ میرے اندر پیدا ہو جائے۔میں خود اپنی کوشش سے پیدا کرلوں، یہ نہیں ہوسکتا۔یہ خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق پر ملتا ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان گھبرائے نہیں اور خدا تعالیٰ سے اس کی توفیق اور فضل کے واسطے دعائیں کرتا رہے۔تھک کے بیٹھ نہ جائے بلکہ مستقل دعائیں کرتا رہے ” اور ان دعاؤں میں تھک نہ جاوے۔آپ نے فرمایا ان دعاؤں میں تھک نہ جاوے۔”جب انسان اس طرح پر مستقل مزاج ہوکر لگارہتا ہے تو آخر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے وہ بات پیدا کر دیتا ہے جس کے لئے اس کے دل میں تڑپ اور بیقراری ہوتی ہے۔یعنی عبادت کے لئے ایک ذوق و شوق اور حلاوت پیدا ہونے لگتی ہے۔عبادت کی ایک مٹھاس جسے کہتے ہیں وہ اسے حاصل ہونی شروع ہو جاتی ہے، ایک مزہ آنے لگ جاتا ہے۔فرمایا کہ دلیکن اگر کوئی شخص مجاہدہ اور سعی نہ کرے اور وہ یہ سمجھے کہ پھونک مار کر کوئی کر دے“۔اللہ تعالیٰ کے قریب کر دے گا یا عبادت کا شوق پیدا ہو جائے گا یا کسی کے قریب چلا جائے تو وہ