خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 569 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 569

خطبات مسرور جلد 13 569 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء (Presbyterian Church) نے ان کو چرچ سے نکال دیا۔اس بات پہ پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور موحد بن کے اللہ تعالیٰ کی عبادت شروع کر دی۔بعد میں یہ احمدی بھی ہو گئے۔پھر الحاج یعقوب صاحب کے دادا نے ، ان کا نام ابراہیم او دو پوتھا، حج پر جانے کے لئے پیسے جمع کئے۔اس زمانے میں جب پیسے جمع کئے تو یہ احمدی تھے۔جب وہ سالٹ پانڈ (Saltpond) پہنچے تو وہاں مشنری انچارج نے انہیں تحریک کی کہ آجکل ہیڈ کوارٹر کی تعمیر ہو رہی ہے اس کے لئے ہم چندہ جمع کر رہے ہیں تو انہوں نے وہ رقم جو جمع کی تھی وہ مسجد کی تعمیر اور ہیڈ کوارٹر کی تعمیر کے لئے دے دی۔اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنی زندگی دی کہ لمبے عرصے کے بعد پھر انہوں نے اپنے پوتے کو اپنے خرچ پر حج کروایا۔الحاج یعقوب صاحب بھی بہت مخلص اور محنتی اور قربانی کی روح رکھنے والے تھے۔جب مولوی عبدالوہاب آدم صاحب گھاناکے امیر منتخب ہوئے ہیں اور حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے ان کو وہاں بھجوایا تو آپ نے گھانا مشن کی تبلیغ کو تیز کرنے کی ہدایت بھی فرمائی تھی۔الحاج یعقوب صاحب نے اس وقت داعیان الی اللہ کے لئے ایک گاڑی پیش کی جس کے اوپر لکھا ہوا ہوتا تھا۔Ahmadiyya Muslim Preacher Association۔اور پھر انہوں نے اس کے ذریعہ سے بہت سارے تبلیغی پروگرام کئے۔پھر ان کی یہ بھی خوبی تھی کہ جہاں ایک جماعت بنتی ، نو مبایعین جمع ہو جاتے تو آپ وہاں اپنے خرچ پر مسجد بنواتے۔اور واقفین اور مبلغین کی بہبود کا بڑا خیال رکھنے والے تھے۔آپ کے دو بیٹے بھی وقف زندگی ہیں۔ایک مرکزی مبلغ ہیں ابراہیم بن یعقوب صاحب جوٹرینیڈاڈ میں ہمارے مشنری انچارج اور امیر ہیں اور دوسرے وہاں کے لوکل مشنری ہیں نورالدین باؤ بنگ صاحب جو اس وقت شمالی علاقے میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔الحاج باؤ بنگ صاحب ربوہ بھی گئے تھے۔موصی بھی تھے۔اور اللہ کے فضل سے تمام جائداد اور آمد کا حساب ان کا صاف تھا۔جب میں گھانا میں تھا اس وقت میں نے دیکھا ہے بڑے پر جوش داعی الی اللہ تھے اور ہر وقت تیار رہتے تھے اور خوش مزاجی بھی ان میں تھی اور اس کے ساتھ ہی عاجزی بھی بے انتہا تھی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولادوں کو بھی اور ان کی نسلوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرم مولانا فضل الہی بشیر صاحب کا ہوگا۔یہ ہمارے دیرینہ خادم سلسلہ ہیں۔دفتری غلط فہمی کی وجہ سے ان کا جنازہ پہلے نہیں پڑھا جا سکا تھا۔3 ستمبر کو 97 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی