خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 568
خطبات مسرور جلد 13 568 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء بہت عالیشان مساجد ہیں اور پانچوں وقت یہاں نماز ہوتی ہے اور نماز سے پر رہتی ہیں۔(ماخوذ از قادیان کے غیر از جماعت احباب کے نام پیغام، انوار العلوم جلد 4 صفحہ 76) پس اس بات کو ہمیں یا درکھنا چاہئے کہ یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تڑپ تھی کہ اپنے دعویٰ پہلے بھی اور بعد میں بھی بار بار اس طرف توجہ دلائی کہ نمازوں کی طرف آؤ۔باجماعت نمازیں پڑھو۔مسجدیں آباد کرو۔مسجد میں تو اب ہماری اللہ کے فضل سے دنیا میں ہر جگہ بن رہی ہیں لیکن ان کی آبادی کی طرف جس طرح تو جہ ہونی چاہئے وہ نہیں ہے۔بعض جگہ سے شکایات آتی ہیں۔بلکہ ربوہ میں، قادیان میں ، پاکستان کی مختلف مساجد میں وہاں کے رہنے والے جو احمدی ہیں ان کو چاہئے کہ اپنی مساجد کو آباد کریں۔اسی طرح دنیا کے دوسرے ممالک میں جو احمدی ہیں اپنی مساجد کو آباد کرنے کی کوشش کریں۔دوسرے اس اعتراض کا بھی جواب یہاں مل جاتا ہے، بعض لوگ کہہ دیتے ہیں، مجھے بھی لکھتے ہیں کہ مساجد میں نو جوانوں کو لانے کے لئے وہاں انہوں نے کھیلوں کا انتظام کر دیا ہے کہ لڑکے شام کو آئیں اور کھیلیں اور گویا کہ کھیل کا لالچ دے کر نماز پڑھائی جاتی ہے۔تو یہ تو کوئی ایسی بات نہیں۔اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ بعض فنکشنز پر کھانے کے انتظامات ہوتے ہیں تو لوگ اس لئے فنکشنز پر آتے ہیں یا نمازیں پڑھنے کے لئے آتے ہیں کہ کھانا کھاتے ہیں۔یہ تو ایک بدظنی ہے جو بعض لوگ کرتے ہیں۔لیکن بہر حال مساجد کے ساتھ جہاں ہال بنائے گئے یا بعض مربیان، مبلغین جو خود نوجوان ہیں اور کھیلنے والے ہیں انہوں نے گراؤنڈز میں کھیلنا شروع کیا، نوجوانوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا۔تو اس سے ایک فائدہ بہر حال ہو رہا ہے کہ اس وقت سے مساجد کم از کم ایک دو نمازوں کے لئے مساجد آباد ہوتی ہیں۔اور اس سے نوجوانوں کی توجہ بھی پیدا ہوتی ہے اس لئے یہ کہنا کہ یہ کوئی جرم ہے کہ مساجد کے ساتھ کھیلوں کے بال کیوں بنالئے گئے یا مساجد میں لانے کے لئے اور بعض فنکشنوں پہ لانے کے لئے کھانے کے انتظام کیوں کئے گئے یہ غلط اعتراض ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عمل سے ثابت ہے کہ اس طرح ہوسکتا ہے اور ہونے میں کوئی حرج نہیں۔اب نمازوں کے بعد میں دو جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو ایک الحاج یعقوب با ؤ بنگ صاحب آف غانا کا ہے جو 30 راگست 2015ء کو انتقال کر گئے۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ایک اندازے کے مطابق ان کی عمر سو سال سے زیادہ تھی۔ان کا تعلق گھانا کے وسطی ریجن سے تھا اور آپ کے دادا جو تھے یہ عیسائی تھے لیکن انہوں نے دوسری شادی کر لی۔جب دوسری شادی کر لی تو پرسبیٹیر بین چرچ