خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 567
خطبات مسرور جلد 13 567 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء روایات کی جو متعلقہ کمیٹی بنی ہوئی ہے وہ ان کو بھجوا دیں گے۔نمازوں کا اہتمام ایک اور واقعہ میں اس وقت بیان کرتا ہوں جو آج بھی بعض سوال اٹھانے والوں کا جواب ہے۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابتدا سے ہی اسلام کی ترقی کی ایک تڑپ تھی اور چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی عملی حالت درست کریں اور عملی حالت درست کرنے کے لئے سب سے ضروری چیز جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دینا ہے، نمازیں پڑھنا ہے۔اس لئے آپ نے قادیان کے رہنے والے جو مسلمان تھے ان کے لئے ایک انتظام فرمایا کہ وہ مسجد میں آ کر نماز پڑھا کریں۔اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود غیر احمد یوں کو جواب دیتے ہوئے جو یہ کہا کرتے تھے، اس وقت بھی الزام لگاتے تھے اور آج بھی الزام لگاتے ہیں کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں۔نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نئی شریعت لے آئے تو ان کو حضرت مصلح موعودؓ جواب دے رہے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب یعنی مسیح موعود علیہ السلام نے سلسلہ احمدیہ کے قیام سے پہلے یہاں کے لوگوں کی یہ حالت دیکھ کر کہ وہ نماز کی طرف توجہ نہیں کرتے خود آدمی بھیج بھیج کر ان کو مسجد میں بلوا نا شروع کیا۔(اب مسلمانوں میں اعتراض کرنے والے تو ہیں لیکن آج بھی اور ہمیشہ سے یا کثریت کی حالت ہے کہ نماز کی طرف توجہ کم ہے تو آدمی بھیج کر لوگوں کو بلوانا شروع کیا۔تو لوگوں نے یہ عذر کرنا شروع کر دیا ( کیونکہ زیادہ تر زمیندار پیشہ تھے ، غریب لوگ تھے ) کہ نمازیں پڑھنا امراء کا کام ہے۔(امیروں کا کام ہے، ہمارا نہیں۔ہم غریب لوگ کمائیں یا نمازیں پڑھیں۔( مزدوری کریں یا پانچ وقت کی نمازیں پڑھتے رہیں گے۔) کہتے ہیں کہ اگر نہ کریں گے تو بھوکے رہیں گے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ انتظام کیا کہ ٹھیک ہے تم نماز پڑھنے آیا کرو ایک وقت کا کھانا تمہیں مل جایا کرے گا۔چنانچہ اس اعلان کے بعد چند دن کھانے کی خاطر پچیس تیس آدمی مسجد میں نماز کے لئے آجایا کرتے تھے مگر آخر میں ست ہو گئے اور صرف مغرب کے وقت جس وقت کھانا تقسیم ہوتا تھا، اس وقت آ جاتے تھے۔آخر پھر یہ سلسلہ بند کرنا پڑا۔آپ فرماتے ہیں کہ اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ شوق تھا۔کس لئے؟ کہ تا کہ اسلام کی حقیقی تصویر نظر آئے اور آپ کے اس شوق کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ نے آپ کی مراد پوری کر دی اور اس وقت ( جب آپ یہ ذکر کر رہے ہیں فرماتے ہیں کہ قادیان میں اب چار مسجد میں ہیں اور دو تو