خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 566
خطبات مسرور جلد 13 566 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء اسی ضمن میں آپ فرماتے ہیں کہ امام بخاری کی آج دنیا میں کتنی بڑی عزت ہے مگر یہ عزت اس لئے ہے کہ انہوں نے دوسروں سے روایات جمع کی ہیں۔(اس لئے جو صحابہ کی اولاد ہے اگر ان کے پاس روایات ہوں تو انہیں ان کو بھی آگے دینا چاہئے۔اگر ان کی صحت باقی روایات سے ثابت ہو گئی تو ان کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ بعض روایات رجسٹر میں مکمل نہ آئی ہوں اور صحابہ کے خاندانوں میں یہ روایات چل رہی ہوں تو وہ لکھ کے بھجوا سکتے ہیں۔کیونکہ آپ نے یہ بھی فرمایا اور یہ مسیح بھی ہے، حقیقت ہے کہ یہ روایات بیان کرنے والوں کے لئے ایک زمانے میں دعائیں کی جائیں گی کہ اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے کیونکہ انہوں نے بہت سارے مسائل حل کر دیئے۔) آپ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ قدرتی طور پر ایسے مواقع پر از خود دعا کے لئے جوش پیدا ہو جاتا ہے۔حضرت مصلح موعود اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ میں کل ہی کلید قرآن سے ایک حوالہ نکالنے لگا۔(آیت نکالنی تھی ) تو مجھے خیال پیدا ہوا کہ آیت دیر سے ملے گی۔مگر اس کلید قرآن سے مجھے فوراً آیت مل گئی۔کہتے ہیں جس پر میں نے دیکھا کہ لاشعوری طور پر میں دو تین منٹ نہایت خلوص سے اس کے مرتب کرنے والے کے لئے دعا کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ اس کے مدارج بلند کرے کہ اس کی محنت کی وجہ سے آج مجھے یہ آیت اتنی جلدی مل گئی ہے۔(ماخوذ از مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر ، انوار العلوم جلد 14 صفحہ 556 تا 558) اب یہ چیزیں بڑی آسان ہو گئی ہیں۔اب تو لٹریچر کمپیوٹر میں مل جاتا ہے۔آجکل تو اور بھی زیادہ آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔تو جنہوں نے ان پروگراموں کو بنا کر کمپیوٹر میں ڈالا ہے ان کے لئے بھی دعا ئیں ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تو ہر بات ہی علمی پہلو لئے ہوئے ہے جو ہمارے لئے ضروری ہے اور عملی تربیت کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس میں تربیت کے بہت سارے پہلو نکل آتے ہیں۔قرآن کریم کی آیات کی وضاحت ہو جاتی ہے، احادیث کی وضاحت ہو جاتی ہے اور اس سے ہمیں پھر فائدہ پہنچتا ہے۔جو بھی احمدی اسے سنے گا، کسی کے ذریعہ سنے گاوہ فائدہ اٹھائے گا اور پھر یقینا ان کو جمع کرنے والوں کے لئے دعائیں بھی کرے گا۔پس یہ ایک بڑی اہم چیز ہے لیکن بعض دفعہ انسان اس پر پوری توجہ نہیں دیتا۔مجھے یاد ہے جب میں نے صحابہ کا ذکر شروع کیا تھا تو کچھ لوگوں نے جو صحابہؓ کی اولا د میں سے ہیں خاندانی طور پر ان کے خاندانوں میں جو روایات چل رہی ہیں وہ بھجوائی تھیں۔ان کو چاہئے کہ یہ روایات با قاعدہ لکھ کر دفتر ایڈیشنل وکالت تصنیف میں بھجوا دیں۔پھر اگر انہوں نے بھیجنی ہوں گی تو