خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 40
خطبات مسرور جلد 13 40 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء باہر کے ٹی وی ہیں، فاکس ٹی وی (Fox TV) ہے ہی این این (CNN) ہے، کینیڈا کے اخبارات ہیں، اسی طرح یونان ، آئرلینڈ ، فرانس ، امریکہ کے مختلف اخبارات ہیں۔انہوں نے ہمارا موقف بیان کیا۔ان کے سٹوڈیو میں جا کر بھی انٹرویو ہوئے ہیں اور اس ذریعے سے کئی ملین لوگوں تک اسلام کا حقیقی مؤقف اور تعلیم پہنچی ہے۔اس میں یہاں امیر صاحب کا بھی انٹرویو ایک ٹی وی نے لیا تھا اور امام مسجد فضل عطاء المجیب راشد صاحب کا بھی انٹرویو لیا تھا۔اسی طرح امریکہ، کینیڈا، فرانس میں ہماری ٹیمیں ہیں ، نمائندے ہیں۔ان کے ٹیموں کے نمائندے شامل ہوئے۔پریس کی ٹیم ہے اور ان کو سٹوڈیو میں بلا کر ان کے انٹرویو لئے گئے یا سوال کئے گئے۔اخباروں نے ہمارے مضمون چھاپے، آرٹیکل چھاپے یا اس حوالے سے خبر دی۔تو بہر حال اس ٹیم نے بھی ہر جگہ دنیا میں یو کے (UK) میں بھی اور امریکہ اور کینیڈا میں بھی حقیقی تعلیم پہنچانے کا اچھا حق ادا کیا ہے۔کینیڈا کی ٹیم کے پریس کے رابطے اور خبروں پر وہاں کے ایک جرنلسٹ نے لکھا ہے کہ میں یہ سوال پوچھتا ہوں کہ احمدیہ مسلم جماعت مسلمانوں میں ایک چھوٹا سا فرقہ ہے لیکن اس کے باوجود اتنی زیادہ ان کی طرف سے میڈیا میں کوریج ہوئی ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ اور انہوں نے صحیح پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے۔تو یہ تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ اسلام کی تعلیم کا صحیح رخ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کی جماعت نے دنیا کو بتانا ہے جو آپ سے سیکھا۔پس جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں بھی کہا تھا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے اپنے حلقے میں دنیا کو یہ پیغام دیں اور سمجھائیں کہ غلط رد عمل صرف فساد کو جنم دیں گے، اور کچھ نہیں ہوگا۔اور جو موجودہ حالات ہیں دنیا کے ان میں پھر بھڑک کر ایک آگ لگ جائے گی اور یہ آگ پھر چاروں طرف پھیلنے والی آگ بن جائے گی جس کی دنیا اس وقت متحمل نہیں ہو سکتی۔پس غلط رد عمل سے نہ لوگوں کو انگیخت کرو، نہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ کو آواز دو۔خدا تعالیٰ دنیا کو عقل دے۔لیکن اس کے ساتھ ایک احمدی کا ایک بہت بڑا کام اس طریق پر چلنا بھی ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيما کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی اس نبی پر درود اور سلام ایک جوش کے ساتھ بھیجو۔گو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر ایک مومن کو حتی المقدور عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور کیوں یا کس لئے کا سوال نہیں اٹھانا چاہئے۔ظاہر ہے عموماً اٹھاتا بھی نہیں۔جوں جوں کسی کا ایمان اور دینی معاملات کا علم اور دعاؤں کا فہم بڑھتا ہے حکم کی حکمت اور فوائد بھی نظر آنے