خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 561
خطبات مسرور جلد 13 561 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء طریق اختیار کیا ہوا تھا کہ وہ ہر روز نیا جوڑا کپڑوں کا پہنتے تھے خواہ وہ ڈھلا ہوا ہوتا اور خواہ بالکل نیا ہوتا۔اب آپ حضرت خلیفہ اسی الاول کا یہ واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول کی طبیعت میں بہت سادگی تھی ، ( بہت ساری باتوں کا ان کو خیال نہیں رہتا تھا ) اور کام کی کثرت بھی رہتی تھی۔اس لئے بعض دفعہ جمعہ کے دن آپ کپڑے بدلنا اور غسل کرنا بھول جاتے تھے اور انہی کپڑوں میں جو آپ نے پہنے ہوئے ہوتے تھے جمعہ پڑھنے چلے جاتے تھے۔(اب یہ سادگی تھی۔یہ کوئی اظہار نہیں تھا کہ ضرور فقیروں کا لباس ہونا چاہئے یا بزرگ کہلانے کے لئے ضروری ہے کہ لباس نہ بدلا جائے بلکہ کام کی زیادتی کی وجہ سے خیال نہیں رہتا تھا تو حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) میں نے جب آپ سے بخاری پڑھنی شروع کی تو ایک دن جبکہ میں بخاری پڑھنے کے لئے آپ کی طرف جارہا تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھ لیا اور فرمایا کہاں جاتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ مولوی صاحب سے بخاری پڑھنے جا رہا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ ایک سوال میری طرف سے بھی مولوی صاحب سے کر دینا اور پوچھنا کہ کہیں بخاری میں یہ بھی آیا ہے کہ جمعہ کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نسل فرماتے اور نئے کپڑے پہنتے تھے۔لیکن اب ہمارے زمانے میں صوفیت کے یہ معنی کر لئے گئے ہیں کہ انسان پراگندہ رہے۔( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) اس بات کا اگر وزن بنایا جائے تو یوں بنے گا کہ جتنا گندہ اتنا ہی خدا کا بندہ۔حالانکہ انسان جتنا پراگندہ ہواتنا ہی خدا تعالیٰ سے دُور ہوتا ہے۔اسی لئے ہماری شریعت نے بہت سے مواقع پر غسل واجب کیا ہے اور خوشبو لگانے کی ہدایت کی ہے اور بدبودار چیزیں کھا کر مجالس میں آنے کی ممانعت کی ہے۔( مسجد میں آنے کی ممانعت ہے۔) غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی سے دنیا فائدہ اٹھاتی چلی آئی اور اٹھاتی چلی جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات سے بھی دنیا فائدہ اٹھائے گی اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو جمع کر دیں۔حضرت مسیح موعود کے بارہ میں روایات محفوظ کرنے کی ضرورت اور اہمیت حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک نوجوان نے مجھے بتایا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صحابی ہوں مگر مجھے سوائے اس کے اور کوئی بات یاد نہیں کہ ایک دن جبکہ میں چھوٹا سا تھا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ لیا اور آپ سے مصافحہ کیا اور تھوڑی دیر تک میں آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے برابر کھڑا رہا۔کچھ دیر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہاتھ چھڑا کر کسی اور کام میں مشغول ہو گئے۔اب بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات ہے مگر بعد میں انہی چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے اہم