خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 554
خطبات مسرور جلد 13 554 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 ستمبر 2015ء فرانس کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک نو مبائع دوست کمال صاحب نے بتایا کہ میں کئی سال سے روایتی مسلمان تھا اور علماء کی طرف سے قرآن کریم کی جو تشریحات کی جاتیں ان پر مطمئن نہیں تھا۔میں دو مختلف انتہاؤں میں زندگی گزار رہا تھا۔ایک طرف وہ چیز جس پر میرا ایمان تھا لیکن دوسری طرف میرا دماغ جو بعض باتوں کو رڈ کرتا تھا اور دلیل مانگتا تھا۔اس کی وجہ سے عجیب کشمکش میں تھا۔لیکن اچانک میری اندھیری روحانی زندگی میں ایک شمع نمودار ہوئی جس نے مجھے جہالت کے اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف نیا راستہ دکھا دیا۔کہتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے بہنوئی کے ساتھ کسی مذہبی موضوع پر گفتگو کر رہا تھا تو انہوں نے جماعت احمدیہ کا ذکر کیا اور مجھے حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر پڑھنے کو کہا۔میں نے جب تفسیر پڑھی تو میں دنگ رہ گیا کہ اتنی سادہ اور شفاف تفسیر چودہ سو سال میں کسی اور نے کیوں نہیں لکھی۔اس کے بعد میرے بہنوئی نے مجھے ایم ٹی اے کے بارے میں بتا یا۔انٹرنیٹ کا لنک دیا جس پر میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بہت سی کتب پڑھیں اور کئی پروگرامز دیکھے۔جو لوگ بھی یہ پروگرام کرتے تھے میں نے ان کو مخلص اور دلیل سے بات کرنے والا پایا۔مجھے ایسا لگا کہ میرے ہاتھ کوئی خزانہ لگ گیا ہے اور میری روح کو آزادی مل گئی ہے۔میرے تمام وساوس دور ہو گئے اور حقیقی اسلام کو جان لیا چنانچہ بیعت کر لی۔دنیا کے مختلف حصوں میں جب جماعت کے ذریعہ سے اسلام کا پیغام پہنچتا ہے جو محبت اور امن اور سلامتی کا پیغام ہے تو نیک فطرت اسے قبول کرتے ہیں۔ابھی میں نے فرانس کا واقعہ کا بیان کیا ہے تو ایک واقعہ ساؤتھ امریکہ کا بھی ہے کہ کس طرح لوگوں نے اسلام قبول کیا۔مبلغ انچارج گوئٹے مالا لکھتے ہیں کہ لیف لیٹس کی تقسیم کے نتیجے میں 91 افراد کو قبول اسلام کی توفیق ملی۔احمدیت قبول کرنے والوں میں ایک پادری ہیں جو 33 سال تک کیتھولک چرچ اور پانچ سال پروٹسٹنٹ فرقے سے منسلک رہے۔اسی طرح ایک اور ڈومنگو (Domingo) صاحب ہیں جو میونسپلٹی میں بطور جج کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔جامعہ کینیڈا کے فارغ التحصیل جو طلباء تھے ان کو ایک ماہ کے لئے وہاں بھجوایا گیا تھا جنہوں نے گوئٹے مالا میں تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ لیف لیٹس تقسیم کئے ، پمفلٹ تقسیم کئے مختلف علاقوں میں گئے۔یہ جو ج تھے ان کو بھی ایک فولڈر ملا۔چنانچہ مشن ہاؤس آئے اور مشنری انچارج سے دو تین گھنٹے ان کی اسلام کے بارے میں گفتگو ہوئی۔انہوں نے معلومات حاصل کیں اور بڑے متاثر ہوئے اور دو تین سوفولڈرز اپنے ہمراہ بھی لے گئے اور کہا کہ میں اپنے علاقے میں تقسیم کروں گا۔پھر کچھ عرصے بعد اپنے