خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 536
خطبات مسرور جلد 13 536 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء پس آج بھی جو لوگ اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم کلام جو ہے اسی سے ہم ان کا منہ بند کر سکتے ہیں۔اس لئے اس طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ اپنے دین کی تائید میں خود ہی نشانات بھی دکھاتا ہے اور دلائل بھی بتا تا ہے۔بعض لوگ جو علمی ذوق رکھتے ہیں ان کے سینے بھی مزید کھولتا ہے۔لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جوکم علمی کے باوجود عالم بننے کے شوق میں غیر ضروری باتیں کر جاتے ہیں اور جن سے بعض دفعہ مشکلات پیدا ہوتی ہیں بلکہ مخالفین کو استہزاء کا موقع ملتا ہے۔ایسے ہی ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ لوگ نئے نئے مسائل مذہب میں داخل کر رہے ہیں اور انہیں یہ بھی محسوس نہیں ہوتا کہ یہ کتنی شرم کی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ایک دوست تھے وہ بٹالہ کے رہنے والے تھے۔بعد میں تو نہایت مخلص احمدی ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ مسئلہ بیان کیا تھا ( پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے ) کہ عربی زبان جو ہے وہ اُم الالسنتہ ہے یعنی سب زبانیں اسی سے نکلی ہیں۔تو یہ صاحب جو تھے انہوں نے اس مسئلے کو لے لیا اور اسی کام میں مشغول ہو گئے کہ ہم ہر لفظ کا عربی زبان سے نکلا ہوا ثابت کریں۔(لیکن زیادہ علم نہیں تھا۔عربی کی زیادہ شدھ بدھ نہیں تھی تو وہ اسی کوشش میں لگ گئے۔) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو لغت کے واقف تھے۔صرف ونحو کے واقف تھے۔زبان کے واقف تھے۔آپ جو مسئلہ نکالتے تھے علم کی بناء پر نکالتے تھے۔جب آپ نے یہ کہا کہ سب کچھ قرآن کریم میں موجود ہے تو اس سے آپ کی یہ مراد تو نہیں تھی کہ قرآن کریم میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ بڑھئی کا کام کس طرح کیا جائے یا اس میں یہ بھی ذکر آتا ہے کہ کھیتی باڑی کے کیا اصول ہیں۔سب کچھ سے مراد یہ تھا کہ تمام ضروریات دینیہ قرآن کریم میں موجود ہیں۔لیکن ان صاحب نے خیال کر لیا کہ سب کچھ قرآن کریم میں موجود ہے۔چنانچہ جب بہت زیادہ شور مچانے لگ گئے۔ہر جگہ ہر طبقے میں بیٹھ کے یہ باتیں کرنے لگ گئے کہ سب کچھ قرآن کریم میں موجود ہے تو کسی سر پھرے نے یہ کہہ دیا کہ آلو اور مرچوں کا قرآن کریم میں کہیں ذکر نہیں۔اب انہوں نے بھی اپنی دلیل تو دینی تھی۔کہنے لگے کہ اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانِ۔(اس کے معنی اصل میں تو موتی اور مونگے کے ہیں ) اس کا مطلب آلو اور مرچیں ہی ہیں۔پس ( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) ایک طرف تو اتنا اندھیر ہے کہ بعض کے نزدیک خدا تعالیٰ کے قول کی طرح فقہاء