خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 530
خطبات مسرور جلد 13 530 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء لْفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أَكُلِي وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْأَهَالِي کہ ایک ایسا زمانہ تھا جب بچے ہوئے ٹکڑے مجھے ملا کرتے تھے اور آج میرا یہ حال ہے کہ میں سینکڑوں خاندانوں کو پال رہا ہوں۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ آپ کی ابتدا کتنی چھوٹی تھی مگر آپ کی انتہا ایسی ہوئی کہ علاوہ ان لوگوں کے جو خدمت کرتے تھے لنگر میں روزانہ دو اڑھائی سو آدمی کھانا کھاتے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ اپنے والد کی جائداد میں اپنے بھائی کے برابر کے شریک تھے لیکن زمینداروں میں یہ عام دستور ہے، اس زمانے میں یہ زیادہ تھا کہ جو کام کرے وہ تو جائیداد میں شریک سمجھا جاتا تھا اور جو کام نہیں کرتا وہ جائداد میں شریک نہیں سمجھا جاتا تھا۔لوگ عموماً کہہ دیتے ہیں کہ جو کام نہیں کرتا اس کا جائداد میں کیا حصہ ہو سکتا ہے۔شروع زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جب کوئی ملاقاتی آتا اور اپنی بھاوجہ کو کھانے کے لئے کہلا بھیجتے تو وہ آگے سے کہ دیتیں کہ وہ یونہی کھا پی رہا ہے۔کام کاج تو کوئی کرتا نہیں۔اس پر آپ اپنا کھانا اس مہمان کو کھلا دیتے اور خود فاقہ کر لیتے یا تھوڑے سے چنے چبا کر گزارا کر لیتے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ خدا کی قدرت ہے وہی بھا وجہ جو اس وقت آپ کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی تھی بعد میں میرے ہاتھ پر احمدیت میں داخل ہوئیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی کام شروع کیا جاتا ہے تو اس کی ابتدا بڑی نظر نہیں آیا کرتی لیکن اس کی انتہا پر دنیا حیران ہو جاتی ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 102-101) آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ قادیان ہی نہیں بلکہ قادیان سے باہر بھی دنیا کے کئی ممالک میں آپ کا لنگر چل رہا ہے۔اُس وقت تو شاید دو تین تنوروں پر روٹی پکتی ہو اور لنگر چل رہا تھا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے لنگروں میں روٹی کے پلانٹ لگے ہوئے ہیں۔قادیان میں بھی، ربوہ میں اور یہاں لنگر میں بھی لاکھوں روٹیاں ایک وقت میں پکتی ہیں۔اللہ کے فضل سے یہاں جلسہ پر جو انتظامات ہیں ان میں بڑا وسیع لنگر کا انتظام انتظام ہے۔جیسا کہ میں پہلے پچھلے جمعہ ذکر کر چکا ہوں، اس دفعہ بہت سارے جرنلسٹ بھی آئے ہوئے تھے۔اخباری نمائندے آئے ہوئے تھے۔وہ لنگر کے انتظام کو دیکھ کے، کھانا پکتے دیکھ کے، روٹی پلانٹ کو دیکھ کے بڑے متاثر ہوئے ہیں۔مشین کی روٹی ساروں کو پسند آئی۔ایک جرنلسٹ جو دیکھ رہے تھے انہوں نے وہاں کھڑے کھڑے کھانے کی خواہش کی۔انہیں روٹی دی گئی تو ان کو بڑی پسند آئی اور کھا