خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 517 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 517

خطبات مسرور جلد 13 517 خطبه جمعه فرموده مورخہ 28 اگست 2015ء وہ بولی میں بھی یہی دعا کر رہی تھی۔اس طرح اس فیملی کی حالت بڑی جذباتی تھی۔یونان کے وفد کے تأثرات۔یونان سے بھی وفد آیا ہوا تھا۔ڈاکٹر اکرم شریف داما دوغلو صاحب کہتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی مسلمان جماعت کو اتنا منظم نہیں دیکھا جس طرح منظم جماعت احمد یہ ہے۔ہر کوئی آپ سے نہایت محبت اور اخوت کے جذبے سے ملتا ہے خواہ وہ آپ کو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔تین افراد پر مشتمل سلوینین وفد بھی تھا۔وہاں کے ایک دوست زما گو پاؤ پیچ ( Zmago Pavlicic) جو کہ بطور ترجمان کے کام کرتے ہیں کچھ عرصہ سے جماعتی لٹریچر کے ترجمہ پر بھی کام کر رہے ہیں۔موصوف کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے سے پہلے میرا جماعت کے متعلق تعارف صرف پڑھنے تک محدود تھا لیکن جلسے میں شامل ہو کر اور جلسے کا ماحول دیکھ کر اب یقین ہو گیا ہے کہ جو کچھ میں نے جماعت کے بارے میں پڑھا تھا وہ ایک حقیقت ہے۔مثال کے طور پر محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں کا قول میں نے پہلے پڑھا تھا یا سنا تھا لیکن جلسے میں آ کر اور مختلف لوگوں سے مل کر ، جلسے کے ماحول کو دیکھ کر، اس قول کی عملی حالت بھی دیکھ لی کہ جماعت احمدیہ کا ہر فرد اس قول پر عمل کرنے والا ہے۔جہاں لوگوں کے تاثرات آپ سنتے ہیں وہاں ہر ایک کو اپنے اپنے جائزے بھی لیتے رہنا چاہئے کہ دوسروں پر یہ جواثر قائم ہوا ہے ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ اس کو ہمیشہ قائم رکھنے کی کوشش کرے۔سلوینین وفد میں یو نیورسٹی کی ایک پروفیسر آندرے یا بورچ صاحبہ بھی شامل تھیں۔یہ صاحبہ خاتون ہیں۔عورت ہیں۔کہتی ہیں میں پہلی مرتبہ کسی اسلامی پروگرام میں شامل ہوئی اور پہلی مرتبہ مجھے اسلام کے بارے میں مثبت تعارف حاصل ہوا۔جماعت حقیقت میں انسانیت کی خدمت کر رہی ہے۔پھر کہتی ہیں کہ ڈائننگ ہال میں بچے کھاناserve کر رہے تھے اور ہم سے بار بار پوچھ رہے تھے کہ اگر ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو ہمیں بتائیں۔اس طرح چھوٹے چھوٹے بچے جلسہ گاہ میں پانی پلا رہے تھے۔میں سمجھتی ہوں کہ ساری چیزیں بچوں کی تربیت اور ان کی پرورش کے لئے بہت ضروری ہیں۔سویڈن کے ایک پولیس افسر آئے ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ آپ جو پیغام دے رہے ہیں اس کا میں نے عملی مشاہدہ بھی دیکھا ہے۔کاش کہ یہ پیغام دنیا کے تمام ممالک تک پہنچ جائے۔یہ پولیس آفیسر ہیں۔کہتے ہیں اگر یہ پیغام سویڈن میں بھی پہنچ جائے تو میں اپنی نوکری سے استعفیٰ دے دوں کیونکہ پولیس کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور اگر ہمارا معاشرہ پر امن اور ایک دوسرے سے محبت