خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 505 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 505

خطبات مسرور جلد 13 505 خطبه جمعه فرموده مورخه 21 اگست 2015ء طالبعلم تھا۔اس وقت فضل عمر ہوٹل کی بنیا د رکھی جانی تھی اور یہ خبر مشہور ہوئی کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی بنیادرکھنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔بہر حال حضرت خلیفہ اسیح الثانی وہاں تشریف لائے اور ہوٹل کے صحن میں کھڑے کھڑے تقریر فرمائی۔کہتے ہیں میں چھوٹا تھا لیکن مجھے یاد ہے کہ حضور نے فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب بھی جالندھر سے تعلق رکھتے تھے۔یعنی وہ مولوی محمد علی صاحب جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بیعت کی تھی اور پھر بعد میں خلافت سے علیحدہ ہو گئے تھے۔حضرت خلیفہ ثانی نے فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب بھی جالندھر سے تعلق رکھتے تھے اور چوہدری محمد علی صاحب جن کو اب میں ہوٹل کا وارڈن مقرر کر رہا ہوں یہ بھی جالندھر سے تعلق رکھتے ہیں۔نیز آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مولوی محمدعلی صاحب بھی آرائیں قوم سے تعلق رکھتے تھے اور چوہدری محمد علی صاحب بھی آرائیں قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور پھر بعض نیک تو قعات چوہدری محمد علی صاحب سے وابستہ کیں اور یہ حضرت مصلح موعودؓ کی دعا ئیں اور نیک تو قعات تھیں جن کی وجہ سے چوہدری محمد علی صاحب کو مولوی محمد علی صاحب سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا ترجمہ کرنے کی توفیق ملی اور پھر ترجمہ بھی بڑا اعلیٰ معیار کا آپ نے کیا۔بڑی گہرائی میں بغیر کسی لفظ یا فقرے اور مضمون کو چھوڑے اس حق کو ادا کرنے کی آپ نے کوشش کی جو ترجمے کا حق ہوتا ہے۔مجیب الرحمن صاحب ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ 1939ء کے جلسے میں آپ چھپ کر شامل ہوئے اور 1940ء میں حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر بیعت کی۔( یہ 1941 ء ہے ویسے۔) آگے لکھتے ہیں کہ روز اول سے ہی خلافت کے عاشق تھے۔حضرت مصلح موعودؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ اے جانِ حسنِ مطلق اے حسنِ آسمانی اے مست رو محبت،اے تیز رو جوانی کہتے ہیں کہ ان کی یہ مست رو محبت ہر خلافت کے ساتھ ایک تیز روطغیانی کی شکل اختیار کر گئی۔اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔کہتے ہیں کہ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی اور ان سے نشست خواہ کتنی ہی مختصر ہوتی ان کی صحبت میں بیٹھنے والا خلافت کی محبت سے سرشار ہو کر اٹھتا۔اور بلا استثناء اس بات کا ہر ایک نے اظہار کیا ہے۔ریاض احمد ڈوگر صاحب مبلغ سلسلہ ہیں۔وہ کہتے ہیں خاکسار کو جامعہ احمدیہ میں تعلیم کے دوران آپ کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔آپ کہنے کو تو انگلش کے استاد تھے لیکن آپ نے ہمیں انگلش ہی نہیں وقف کی اہمیت، اخلاقیات، خلافت سے وفا، بزرگوں کا احترام، سلسلے کا وقار، سب کچھ سکھانے کی بھر پور