خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 506
خطبات مسرور جلد 13 506 خطبه جمعه فرموده مورخه 21 اگست 2015ء کوشش کی۔کہتے ہیں جب میں جامعہ سے فارغ ہو کر میدان عمل میں جانے لگا تو جامعہ سے باہر نکلا تو دیکھا کہ آپ ایک درخت کے سائے تلے کھڑے ہیں۔آپ نے مجھے آواز دے کر بلایا اور بٹھا کر کہنے لگے۔کیا کر رہے ہو، میدان عمل میں جار ہے ہو؟ میں نے عرض کیا ہاں جی۔کہنے لگے کہ میری دو باتیں یا درکھنا۔اور یہ ہر مبلغ کے لئے ، ہر مربی کے لئے بڑی ضروری ہیں۔کہ تم فیلڈ میں جار ہے ہو چو ہدری صاحب نے انہیں کہا کہ وہاں ریاض ڈوگر کو کوئی نہیں جانتا۔احباب جماعت تمہارے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمائندہ سمجھ کر آئیں گے اور حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لَا تَسْتَمْ مِنَ النَّاسِ۔کہ لوگوں سے اکتانا نہیں۔ایسا ہو گا کہ تم تھکے ہو گے تمہارا سر درد کر رہا ہوگا تمہارا سونے کو دل چاہ رہا ہوگا۔ایک آدمی کو نیند نہیں آ رہی ہوگی وہ تمہارے پاس آ جائے گا۔اس کے سامنے بھی اکتاہٹ کا اظہار نہیں کرنا یعنی تمہاری جیسی مرضی حالت ہو اگر کوئی شخص بھی آتا ہے وہ کسی وجہ اور پریشانی کی وجہ سے آتا ہے یا جس وجہ سے بھی آتا ہے کبھی تم نے اکتاہٹ کا اظہار نہیں کرنا۔پھر کہنے لگے کہ دوسری بات یاد رکھو۔تم جماعتوں میں جاؤ گے بعض لوگ تمہاری کمزوریوں کی نشاندہی کریں گے اور نشاندہی کریں تو بشاشت کے ساتھ قبول کر کے اپنی اصلاح کی کوشش کریں۔بعض لوگ مقامی عہدیداروں پر تنقید کریں گے۔کہنے لگے یہ بہت بری بات ہے۔نہیں ہونی چاہئے۔لیکن سنی جا سکتی ہے۔سن لینا برداشت کر لینا۔آگے کہنے لگے لیکن اگر کوئی خلافت یا خلیفہ اسیح پر اعتراض کرے تو تمہاری برداشت کی تمام حدیں ختم ہو جانی چاہئیں۔پھر کوئی برداشت نہیں کرنی۔کہنے لگے میری یہ دو باتیں یا درکھنا انشاء اللہ میدان عمل میں سارے کام آسان ہو جا ئیں گے۔ڈاکٹر نوری صاحب کہتے ہیں کہ چوہدری محمد علی صاحب کو جب یہ جان لیوا ہارٹ اٹیک ہوا اور آپ کو ہسپتال لے جایا گیا تو اس دوران آپ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور مسلسل خدا تعالیٰ کی حمد میں مصروف رہے۔طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ میں جب شروع ہوا ہے تو اس وقت آپ رجسٹر ہونے والے پہلے مریض تھے۔ان کو پرانی دل کی بیماری تھی۔کئی دفعہ ہسپتال داخل ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفادی جس کے بعد آپ پھر خدمت میں مصروف ہو جاتے۔ہمیشہ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس اہم کام کو سرانجام دینے کی توفیق دے اور ہمت دے جو خلیفہ وقت نے میرے سپر د کیا ہے۔یہ کہتے ہوئے آپ کی آواز بھتر اجاتی اور آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ہمیشہ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ میرے گناہ بخش دے۔میری کمزوریاں بخش دے۔ساری خطائیں معاف کر دے اور اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت