خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 499 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 499

خطبات مسرور جلد 13 499 خطبه جمعه فرموده مورخه 21 اگست 2015ء احمدیوں کو ملتے ہیں تو اشاروں کی زبان سے ہی جو محبت اور پیار کے جذبات پیدا ہو رہے ہوتے ہیں اور بڑھتے ہیں وہ ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو یہ فرمایا کہ آپس میں رشتہ تو ڈ دو تعارف ترقی پذیر ہو اور روحانی طور پر سب بھائی ایک ہوں اور خشکی اور اجنبیت اور نفاق اٹھا دینے کے لئے کوشش ہو اور اس کے لئے دعا بھی ہو تو بے غرض تعلق کا اظہار اور ایک دوسرے کے لئے دعا ایک ایسا ماحول پیدا کر دیتے ہیں جس کی مثال صرف ہمارے انہی جلسوں میں نظر آتی ہے۔پس ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس تعلق اور تعارف کو حاصل کرے اور بڑھائے اور محض اللہ یہ تعلق ہو۔اسی طرح یہ بھی ہر ایک کو کوشش اور دعا کرنی چاہئے کہ وہ تمام روحانی فوائد جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عمومی طور پر ذکر فرمایا ہے کہ اور بھی بہت سے روحانی فوائد اور منافع ہوں گے جن تک ہماری سوچ جا سکتی ہے یا نہیں یا جو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں تھے کہ میرے ماننے والوں کو یہ روحانی فوائد ہوں، ان سب سے ہم حصہ لینے والے ہوں۔یہ بھی دعا کرنی چاہئے اور اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔پس ان دنوں میں اس کے لئے ، جیسا کہ میں نے کہا ، دعا بھی کریں اور کوشش بھی کریں۔ہر ایک کو اپنی استعداد کے مطابق اس میں حصہ لینا چاہئے۔جلسے کے پروگراموں کو سننے اور اس غرض سے سننے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اس پر ہم نے عمل بھی کرتا ہے۔اس بارے میں نصیحت فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: سب کو متوجہ ہو کر سننا چاہئے“۔(جب باتیں کی جائیں ، تقریریں کی جائیں۔) اور پورے غور اور فکر کے ساتھ سنو کیونکہ یہ معاملہ ایمان کا معاملہ ہے۔اس میں غفلت ، سستی اور عدم توجہ بہت برے نتیجے پیدا کرتی ہے۔جو لوگ ایمان میں غفلت سے کام لیتے ہیں اور جب ان کو مخاطب کر کے کچھ بیان کیا جاوے تو غور سے اس کو نہیں سنتے ہیں ان کو بولنے والے کے بیان سے خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ درجہ کا مفید اور مؤثر کیوں نہ ہو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا“۔اگر وہ غور سے نہیں سنو گے تو جیسا مرضی بیان ہو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔فرمایا کہ: ”ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ کان رکھتے ہیں مگر سنتے نہیں۔دل رکھتے ہیں پر سمجھتے نہیں۔پس یا درکھو کہ جو کچھ بیان کیا جاوے اسے توجہ اور بڑی غور سے سنو کیونکہ جو تو جہ سے نہیں سنتا وہ خواہ