خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 489
خطبات مسرور جلد 13 489 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اگست 2015ء کمال صاحب بہت ملنسار ، خوش اخلاق، بلند حوصلہ، دوسروں کی مدد کرنے والے ہر دلعزیز انسان تھے۔احمدیوں کے ساتھ غیر احمدی بھی ان کے معترف تھے اور ان کے بارہ میں کبھی کسی سے تعریف کے علاوہ اور کچھ نہیں سنا گیا۔بڑوں اور چھوٹوں سب میں یہ یکساں مقبول تھے۔سب سے دوستی کا تعلق تھا۔والدین کی خدمت کرنے والے اور بہن بھائیوں کا خیال رکھنے والے۔نمازوں کا با قاعدہ التزام کرنے والے۔خدمت خلق کے کاموں میں پیش پیش۔ہیومینٹی فرسٹ کے پروگرام گفٹ آف سائٹ (gift of sight) کے پروجیکٹ لیڈر تھے۔ایسٹ افریقہ میں آنکھوں کا کلینک بنانے کے منصوبے پر کام کرتے رہے۔بڑے فعال داعی الی اللہ تھے۔تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ہسپتال میں اپنے علاج کے دوران بھی ڈاکٹروں اور دیکھ بھال کرنے والوں کا جماعت سے تعارف کروایا بلکہ مجھے خود انہوں نے بتایا تھا کہ میں نے اپنے ہاں ٹی وی لگا لیا ہے۔ایم ٹی اے کو لگایا ہوا ہے اور پروگرام دکھاتا ہوں۔ان پروگراموں کے حوالے سے پھر تبلیغ کے رستے بھی کھلتے ہیں۔مجلس انصار سلطان القلم کے بھی متحرک ممبر تھے۔ٹی وی، ریڈیو اور اخباروں کو سو سے زائد انٹرویوز کے ذریعہ لاکھوں لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔ایک بھائی ان کے یوسف صاحب ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ جماعت سے کمز ور تعلق رکھنے والے خدام و اطفال کو ہمیشہ ذاتی کوششوں اور تعلق کے ذریعہ جماعت کے قریب کرنے کی کوشش کرتے اور ان کے دلوں میں خلافت کے لئے محبت پیدا کرتے۔بسا اوقات خدام کو لے کر لندن آتے تا کہ مسجد فضل میں نماز پڑھیں اور خلیفہ وقت کے ساتھ تعلق پیدا ہو۔خدام کو عمومی طور پر اور عاملہ اور ممبران کو خصوصاً نمازوں کی طرف نہ صرف توجہ دلاتے بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات بھی کرتے بلکہ نماز فجر کے لئے بعض خدام کو گھروں سے لے کر آتے۔بیماری کے متعلق ڈاکٹر حفیظ صاحب کہتے ہیں کہ جب ان کو بیماری کا پتا لگا تو کمال آفتاب نے مجھے بتایا کہ جو خدا کو منظور ہے ٹھیک ہے۔مجھے کوئی پریشانی نہیں۔سو بیماری کی تشخیص کے بعد جوان کوسب سے زیادہ فکر تھی وہ یہ تھی کہ انہوں نے مجھے کہا کہ نیپال کے زلزلے کے بعد ہیومینٹی فرسٹ کے لئے جو کچھ انٹرویوز تیار کئے جارہے تھے وہ انٹرو یوضرور آن لائن ہونے چاہئیں تا کہ دنیا کو جماعت کی خدمت انسانیت کا علم ہو۔