خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 484 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 484

خطبات مسرور جلد 13 484 خطبه جمعه فرموده مورخه 14 اگست 2015ء عملی نمونے بھی اور ان کی باتیں بھی مہمان نوازی کا حصہ ہیں۔صرف خدمت کرنا ہی نہیں۔اس کی طرف بھی ان دنوں میں توجہ دینی چاہئے۔اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں مہمان نوازی کے کس طرح کے نمونے دکھائے اور کس طرح تربیت فرمائی اس کی بھی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔مہمان کی عزت اور احترام کا ایک واقعہ ہے۔ایک دفعہ قادیان میں آئے ہوئے ایک مہمان جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں بھی تھے۔ایک مریدی کا رشتہ بھی تھا اور اس مریدی کے جذبے کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں دبانے لگ گئے۔اسی دوران میں کمرے کی کھڑکی یا دروازے پر ایک ہندو دوست نے آکر دستک دی۔یہ صحابی کہتے ہیں میں اٹھ کر کھڑ کی کھولنے لگا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی تیزی سے اٹھے اور جا کر دروازہ کھول دیا اور فرمایا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد اول صفحہ 66-65 روایت نمبر 89 بیان فرمودہ میاں عبداللہ صاحب سنوری) اب دیکھیں یہاں دو صورتیں ہیں ایک مرید کی جس کے تحت اس کی خواہش پر دبانے کی اجازت دے دی اور دوسری مہمان کی تو مہمان کے حق کی ادائیگی کے لئے فوراً اپنے آقا ومطاع کے ارشاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے آئے ہوئے مہمان کی بھی عزت کی اور آنے والے کا احترام کرتے ہوئے خود اس کے لئے دروازہ بھی کھولا۔ایک واقعہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ایک بہت شریف اور غریب مزاج احمدی سیٹھی غلام نبی صاحب جو پنڈی میں دکان کیا کرتے تھے۔حضرت میاں صاحب کہتے ہیں انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کے لئے قادیان آیا۔سردی کا موسم تھا اور کچھ بارش بھی ہو رہی تھی۔میں شام کے وقت قادیان پہنچا۔رات کو جب میں کھانا کھا کر لیٹ گیا اور کافی رات گزرگئی تو کسی نے میرے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سامنے کھڑے دیکھا۔آپ کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا گلاس تھا اور دوسرے ہاتھ میں لالٹین تھی۔میں حضور کو دیکھ کر گھبرا گیا۔مگر حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا۔کہیں سے دودھ آ گیا تھا میں نے کہا آپ کو دے آؤں۔آپ یہ دودھ پی لیں۔آپ کو شاید دودھ کی عادت ہو گی۔سیٹھی صاحب کہا کرتے تھے کہ میری آنکھوں