خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 485
خطبات مسرور جلد 13 485 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اگست 2015ء میں آنسو امڈ آئے۔سبحان اللہ ! کیا اخلاق ہیں۔خدا کا برگزیدہ صیح اپنے خادموں تک کی خدمت میں کتنی لذت پا رہا ہے اور تکلیف اٹھا رہا ہے۔(ماخوذ از سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 70-69) بعض خاص علاقے کے لوگوں کے لئے آپ ان کے مزاج کے مطابق کھانا بھی تیار کروایا کرتے تھے۔گو جلسے کے دنوں میں انتظامی وجوہ کی بناء پر آپ ایک کھانا تیار کرواتے تھے تا کہ زیادہ قتیں پیدا نہ ہوں۔لیکن آجکل تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی جماعت انتظامی لحاظ سے بھی بہت تربیت یافتہ ہو چکی ہے اور والنٹیئر میسر ہیں۔وسائل بھی ہیں اور بڑے بڑے انتظامات بھی آسانی سے کر سکتی ہے۔اس لئے جلسے کے انتظامات کے تحت بھی ایک تو عمومی لنگر کا انتظام ہوتا ہے اور دوسرے غیر از جماعت اور خاص علاقے کے لوگوں یا مریضوں کے لئے بھی کھانا بنتا ہے اور اس میں کوئی دقت بھی نہیں ہے اور حرج بھی نہیں ، نہ حرج ہونا چاہئے۔بعض لوگ بلا وجہ اس قسم کے سوال اٹھا دیتے ہیں کہ کیوں علیحدہ کھانا پک رہا ہے۔فلاں کے لئے علیحدہ کیوں ہے؟ ان لوگوں کو بھی حوصلہ دکھانا چاہئے۔ہاں ان خاص غیر ملکی ) مہمانوں کے لئے جو عموماً تبشیر کے مہمان کہلاتے ہیں ان کو بھی یہ بتانے کے لئے کہ عمومی طور پر جلسے میں شامل ہونے والے کیا کھاتے ہیں، لنگر کا کھانا بھی ان کے سامنے رکھنا چاہئے اور بعض لوگ شوق سے یہ کھانا کھاتے بھی ہیں۔بہر حال اصل چیز یہ ہے کہ تکلف نہ ہو۔پہلے انتظام نہیں ہو سکتا تھا تو علیحدہ انتظام نہیں کیا جاتا تھا۔اب ہوسکتا ہے تو اکرام ضیف کا تقاضا ہے کہ غیر ملکی ) مہمانوں کے لئے انتظام کیا جائے۔ربوہ میں بھی جب جلسے ہوتے تھے تو ایک پر ہیزی لنگر بھی ہوتا تھا اور غیر ملکیوں کے لئے بھی علیحدہ کھانا پکتا تھا۔پس یہاں بھی اگر ایسا انتظام ہوتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن عموماً احمدیوں کو عمومی انتظام کے تحت جو کچھ پکا ہو اسے ہی کھانا چاہیئے اور اسی طرح عہد یداروں کو بھی عام لنگر کا کھانا کھانا چاہئے۔جو بھی کارکن ہیں، ڈیوٹی والے ہیں ،عہدیدار ہیں سوائے اس کے کہ کسی کو کوئی خاص تکلیف ہو یا کسی وقت وہ کسی خاص مہمان کے ساتھ ڈیوٹی پر ہو تو اس وقت ان کے ساتھ کھانا کھا لیا۔لیکن عمومی طور پر ہر ایک کو اپنا نمونہ یہی دکھانا چاہئے کہ جو عام کھانا ہے وہی عہد یدار بھی کھائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو بھی بڑا پسند فرمایا ہے اور انتظامیہ کے تکلف کا اظہار بالکل نہیں ہونا چاہئے یہ آپ نے پسند فرمایا۔اور یہ بھی آپ نے پسند فرمایا کہ بغیر تکلف کے خاص مہمانوں