خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 483
خطبات مسرور جلد 13 483 خطبه جمعه فرموده مورخه 14 اگست 2015ء ان کی مجلسیں بھی لگیں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی مجلسیں لگیں۔پس یہ ہیں میز بانوں کے فرائض۔جن کے گھروں میں مہمان آرہے ہیں انہیں بھی چاہئے کہ رات کو فضول باتوں میں وقت گزارنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ وقت ان دنوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ذکر میں گزارا جائے۔نیکی کی باتیں کی جائیں اور نیکی کی باتیں سکھائی جائیں۔ان میں بچے بھی ہوتے ہیں نوجوان بھی ہوتے ہیں۔ہمارے جلسوں پر علاوہ احمدیوں کے اب غیر از جماعت مہمان بھی کافی تعداد میں آتے ہیں۔مختلف جگہوں پر وہ ٹھہرتے ہیں اور ہر جگہ مہمان نوازی کی ٹیم ہے۔ان ٹیم ممبران کو یا کارکنان کو جو بھی خدمت کرنے والے ہیں ان کو چاہئے کہ ہر قیامگاہ میں اپنے نمونے بھی ایسے دکھا ئیں کہ آنے والوں کو احساس ہو کہ وہ کسی دینی جلسے میں شرکت کے لئے آئے ہیں نہ کہ دنیاوی میلے میں اور اپنے رویے ، اپنے اخلاق کو اعلیٰ معیاروں پر پہنچائیں ، رات کو یا دن کے کسی حصے میں بھی جب فارغ ہوں تو فارغ بیٹھے ہوئے ادھر اُدھر کی گنتیں لگانے کی بجائے دین کی باتیں کریں۔اس کا اثر بھی مہمانوں پر ہوگا۔ان پر واضح ہوگا کہ یہ لوگ ان دنوں میں دنیا سے مکمل طور پر کنارہ کش ہو کر خالصہ اللہ جمع ہوئے ہیں اور اس جذبے سے خدمت بھی کر رہے ہیں اور اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے مہمانوں کو بھی اپنے دین کی باتیں سکھا رہے ہیں۔پس کارکنان کی طرف سے یہ تبلیغ بھی ہوتی ہے اور بچوں اور نو جوانوں کی تربیت بھی ہو رہی ہوتی ہے۔ہم نے ، جماعت احمدیہ نے ابھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی دُور کا سفر طے کرنا ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم نے اس بات کو سمجھا تو جہاں انہوں نے مہمان نوازی کا حق آئے ہوئے وفد کو جس کی مثال میں نے دی ہے بہترین رہائش مہیا کر کے ، اس کا بندو بست کر کے انہیں بہترین کھانا کھلا کر مہیا کیا وہاں ان کی روحانی دینی اور علمی ضرورت کا حق ادا کرنے کی بھی کوشش کی تا کہ جب وہ اپنے گھروں میں جائیں تو بہترین رنگ میں اپنوں کی تربیت بھی کر سکیں اور احسن رنگ میں اسلام کا پیغام بھی اپنے علاقے کے لوگوں کو پہنچاسکیں۔ہمارے نظام میں بھی تربیت اور تبلیغ کے شعبے ہیں۔جلسے کے دنوں میں اس کی ٹیمیں بھی بنتی ہیں۔رات کو مختلف قوموں کے ساتھ ، طبقوں کے ساتھ بعض اجلاسات بھی ہوتے ہیں۔پس اپنوں اور غیروں کو یہ روحانی مائدہ کھلانا بھی ڈیوٹی دینے والوں کی ذمہ داری ہے۔اس کے انتظام بھی احسن رنگ میں کئے جائیں۔پس ڈیوٹی والوں کو اس بات کو بھی اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔وہ یہ بات یادرکھیں کہ ان کے اپنے