خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 32

خطبات مسرور جلد 13 32 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جنوری 2015ء سے تو ان ملکوں میں بھی رابطوں کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح ہندوستان میں رابطے ہیں۔مغربی بنگال میں کہتے ہیں بیعتیں ہوئی تھیں تو وہاں احمدی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔اگر نو مبا ئعین کو چندوں کے نظام میں لایا جائے تو پھر ہی مضبوط رابطہ بھی رہتا ہے اور ایمان میں مضبوطی کے ساتھ نظام جماعت سے بھی تعلق قائم ہوتا ہے۔اسی لئے میں نے یہ کہا تھا کہ تحریک جدید اور وقف جدید میں نئے آنے والوں کو بھی شامل کریں۔پرانوں کو بھی ان کا احساس دلائیں۔بعض جماعتیں تو اس سلسلے میں بہت فعال ہیں اور کام کر رہی ہیں لیکن بہت جگہ سُستی بھی ہے۔میں نے تو یہ کہا تھا کہ چاہے کوئی سال میں قربانی کا دس پینس (pence) دیتا ہے تو وہ بھی اس سے لے لیں۔کم از کم اس کا ایک تعلق تو قائم ہوگا۔ہر ایک کو پتا ہونا چاہئے کہ ہم نے مالی قربانی کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانی کرنے والوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ تو ہوتا ہے لیکن جتنا ہونا چاہئے اتنا نہیں ہے۔مثلاً اس سال وقف جدید میں پچاسی ہزار کا اضافہ ہوا ہے اور الحمدللہ یہ جماعت کی ترقی کا معیار ہے کہ مالی قربانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن اگر کوشش کرتے اور اس سال کے بیعت کرنے والوں میں سے بیس فیصد بڑوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کرتے تو بیعتوں کے لحاظ سے ہی ایک لاکھ دس ہزار سے اوپر اضافہ ہونا چاہئے تھا۔پس ترقی بیشک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہورہی ہے لیکن اس میں مزید گنجائش ہے۔آئندہ سال نئے سرے سے جماعتوں کو افرادکو شامل کرنے کا ٹارگٹ وکالت مال کے ذریعہ سے ملے گا اس طرف بھر پور توجہ دیں۔مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخراجات کی فکر نہیں کہ وہ کس طرح پورے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ وہ انشاء اللہ پورے کرے گا۔یہ اس کا وعدہ ہے۔ہمیں اپنے اندر قربانیوں کی روح پیدا کرنے والے زیادہ سے زیادہ چاہئیں اور اس کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے عہد یداران دعا بھی کریں اور کوشش بھی کریں اور دوسرے عام احمدی بھی رابطوں کی مہم جاری رکھیں۔جو نیک فطرت ہیں اور جن کو خدا تعالیٰ بچانا چاہتا ہے وہ انشاء اللہ تعالیٰ واپس آئیں گے اور کمزور اگر دُور ہٹ گئے ہیں تو ہمیں ان سے ہمدردی ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعام کو حاصل کر کے پھر گنوا بیٹھے لیکن اپنی تعداد کی کمی کی ہمیں کوئی فکر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تعداد سے زیادہ اخلاص و وفا اور ایمان میں بڑھے ہوئے مخلصین کے بارے میں زور دیا کہ وہ جماعت میں پیدا ہونے چاہئیں۔پس نو مبائعین اور پرانے احمدیوں کے بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں جو مالی قربانیوں میں اضافے کے معیار بڑھنے کی وجہ سے ان کے اخلاص کا پتا دیتے ہیں۔اس سے ان کے اخلاص کے معیاروں کا پتا لگتا ہے۔لیکن جماعتی نظام کو بھی ضائع ہونے والوں کا پتا لگانے کی بھر پور کوشش کرنی