خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 479

خطبات مسرور جلد 13 479 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اگست 2015ء ان کام کرنے والوں میں انشاء اللہ مرد بھی ہیں ، عورتیں بھی ہیں ، لڑکے بھی ہیں، لڑکیاں بھی ہیں۔بچے اور بوڑھے بھی ہیں جو آئیں گے یا کر رہے ہیں۔پس یہ غیر معمولی جذبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کا ہے جو ہمیں آج سوائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ جماعت کے اور کہیں نظر نہیں آتا۔ان مغربی ممالک میں جہاں دنیا کمانا اور دنیاوی باتوں میں پڑنا ہر ایک کی عموماً الا ماشاء اللہ اوّلین ترجیح ہے وہاں احمدی نوجوان عاجزی سے رضا کارانہ خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم مسلسل ان کارکنان کے لئے دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جہاں احسن رنگ میں خدمت کی توفیق دیتا رہے وہاں ان کو ہمیشہ ہر شر اور پریشانی اور تکلیف سے محفوظ رکھے۔جلسہ سالانہ اور مہمان نوازی اب میں حسب روایت اور یہ ضروری بھی ہے مہمان نوازی کے حوالے سے کارکنان کے لئے کچھ باتیں کہوں گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام کارکنان جیسا کہ میں نے کہا اپنی تمام تر کوشش اور توجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں لیکن بعض نئے شامل ہونے والے اور وہ بچے جو پہلی دفعہ اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں نیز پرانے کارکنان جو ہیں ان کو یاد دہانی کے طور پر بھی ضروری ہے کہ مہمان نوازی سے متعلق اسلامی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور آپ کے غلام صادق کے اپنے عمل اور آپ کی نصائح کو بھی ہم سامنے رکھیں اور دہراتے رہیں تا کہ مہمان نوازی کے بہتر سے بہتر معیار ہم قائم کرسکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں مہمان نوازی کی اہمیت بتاتے ہوئے قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا ذکر فرماتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس مہمان آئے تو پہلا اور فوری رڈ عمل خوش آمدید کہنے اور سلامتی کی دعاؤں کے بعد جو انہوں نے دکھایا وہ یہ تھا کہ ان کے لئے فوری طور پر کھانا تیار کروایا۔اور پھر حضرت لوط کے مہمانوں کے لئے جو اُن کی فکر تھی اس کا ذکر ہے کہ میری قوم کے لوگ انہیں تکلیف نہ دیں اور مہمانوں کی حفاظت کی فکر آپ کو دامنگیر ہوئی۔پس مہمان کی تکلیف کی فکر رہنی چاہئے اور مہمان کی تکلیف میزبان کی رسوائی کا باعث بھی بنتی ہے۔یہ بھی اس سے سبق ملتا ہے۔پس یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مہمان کی تکلیف کوئی ایسی معمولی چیز نہیں جس سے صرف نظر کیا جائے۔جس سے بلکہ کسی بھی رنگ میں مہمان کو کوئی تکلیف پہنچے تو یہ میزبان کے لئے شرمندگی اور رسوائی کا