خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 474
خطبات مسرور جلد 13 474 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 اگست 2015ء دیتے ہیں کہ اس کا روزہ ضائع ہو گیا۔غرض اس نے اس پر خوب بحث کی۔صبح وہ گھبرایا ہوا حضرت خلیفہ اول کے پاس آیا۔زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کی بات ہے) مگر چونکہ حضرت خلیفہ اول ہی درس وغیرہ دیا کرتے تھے اس لئے آپ کی مجلس میں بھی لوگ کثرت سے آ جایا کرتے تھے۔آتے ہی کہنے لگا کہ آج رات تو مجھے بڑی ڈانٹ پڑی۔آپ نے فرمایا کیا ہوا؟ کہنے لگا کہ رات کو میں بحث کرتا رہا کہ مولویوں نے ڈھونگ رچایا ہوا ہے کہ روزہ دار ذرا سحری دیر سے کھائے تو اس کا روزہ نہیں ہوتا۔میں کہتا تھا کہ جس شخص نے بارہ گھنٹے یا چودہ گھنٹے فاقہ کیا ہو وہ اگر پانچ منٹ دیر سے سحری کھاتا ہے تو کیا حرج ہے۔اس بحث کے بعد میں سو گیا تو میں نے رویا میں دیکھا کہ ہم نے تانی لگائی ہوئی ہے۔فلاسفر جولاہا تھا۔اس لئے خواب میں بھی اسے اپنے پیشہ کے مطابق یاد آئی۔( رشتی ، دھاگہ جو کپڑا بنانے کے لئے کھینچتے ہیں تو کہتے ہیں) دونوں طرف میں نے کیلے گاڑ دیئے اور تانی کو پہلے ایک کیلے سے باندھا اور پھر میں اسے دوسرے کیلے سے باندھنے کے لئے لے چلا۔جب کیلے کے قریب پہنچا تو دو انگلی ورے سے تانی ختم ہو گئی۔میں بار بار کھینچتا کہ کسی طرح اسے کیلے سے باندھ لوں مگر کامیاب نہ ہو سکا اور میں نے سمجھا کہ میرا سارا سوت مٹی میں گر کر تباہ ہو گیا۔چنانچہ میں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ میری مدد کے لئے آؤ۔دوانگلیوں کی خاطر میری تانی چلی۔( وہ دھاگہ جو تھا خراب ہورہا ہے۔) اور یہی شور مچاتے مچاتے میری آنکھ کھل گئی۔جب میں جا گا تو میں سمجھا کہ اس رؤیا کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مجھے مسئلہ سمجھایا ہے کہ دو انگلیوں جتنا فاصلہ رہ جانے سے اگر تانی خراب ہو جاتی ہے تو روزے میں تو پانچ منٹ کا فاصلہ کہہ رہے ہو۔اس کے ہوتے ہوئے کس طرح روزہ قائم رہ سکتا ہے۔(ماخوذ ازتعلق باللہ۔انوار العلوم جلد 23 صفحہ 178-177) انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اکیلا نہیں رہ سکتا۔اس نے کہیں نہ کہیں اپنا تعلق جوڑنا ہوتا ہے۔اس کی وضاحت ایک جگہ حضرت مصلح موعود اس طرح فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک مجلس میں یہ ذکر ہورہا تھا کہ کیا کسی نے گندم کی روٹی کھائی ہے ان دنوں لوگ زیادہ تر باجرہ ، جوار اور جو کھاتے تھے۔گندم شاذ ہی ملتی تھی اور اگر یہ پتا لگ جاتا کہ کسی کے پاس گندم ہے تو سکھ اس سے چھین لیتے۔تمام لوگوں نے کہا ہم نے گندم کی روٹی نہیں کھائی۔صرف ایک شخص نے کہا کہ گندم کی روٹی بڑی مزیدار ہوتی ہے۔