خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 472
خطبات مسرور جلد 13 472 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 اگست 2015ء حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تو شاید عریانی آج کی نسبت ستر فیصد، اتی فیصد سے بھی کم ہو گی۔لیکن اس وقت کے ایک مصور جو تصویریں بناتا تھا، پینٹنگ کرتا تھا اس کا بیان حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ ایک مشہور انگریز مصور نے مضمون لکھا ہے جس میں اس نے عورتوں کو مخاطب کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ آجکل یورپ کی عورتوں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے جسم کو زیادہ سے زیادہ نگا کرتی چلی جاتی ہیں۔بہر حال وہ مشہور مصور لکھتا ہے کہ میں ایک مصور کی حیثیت سے عورتوں اور مردوں کے ننگے جسم دیکھنے کا اس قدر عادی ہوں کہ کسی دوسرے کو اس قدر د یکھنے کا کم موقع ملاتا ہے۔اس لئے میں ایک ماہر فن کی حیثیت سے مشورہ دیتا ہوں کہ ننگا جسم خوبصورتی پیدا نہیں کرتا بلکہ بسا اوقات ایسی عورت مرد کی نگاہ میں بدصورت سمجھی جاتی ہے۔اس لئے عورتیں اگر اپنے جسموں کو اس لئے ننگا رکھتی ہیں کہ حسن کی تعریف ہو تو بعض دفعہ تعریف کے بجائے نفرت پیدا ہوتی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہ ایک ماہر فن کی رائے ہے جو یورپ کا رہنے والا ہے اور یہ رائے جو ہے بڑی وزن دار ہے اور بڑی معقول ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود دجلد 15 صفحه 152 -153) اسی طرح مرد بھی اپنے عجیب و غریب حلیے بنا لیتے ہیں اور لباس پہنتے ہیں جن سے ان کا وقار بھی ضائع ہوتا ہے اور بدصورتی بھی نمایاں ہوتی ہے۔لیکن آجکل تو آزادی کے نام پر چار آدمی اگر جمع ہو کر کوئی اظہار کر دیں تو اس بیہودہ اظہار کو اہمیت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے معاشرہ مجموعی طور سے بداخلاقی اور گراوٹ کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے۔آج سے ستر برس پہلے یا اسی برس پہلے یہ ایک مصور کا حق کا اظہار تھا۔آج کا مصوّر بھی شاید اپنے اس اظہار کا اظہار نہ کر سکے۔ایماندارانہ رائے اور مشورہ نہ دے اور نہ کہ مصور بلکہ کسی میں بھی جرات نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اخلاقی طور پر انحطاط ہوتا چلا جا رہا ہے۔خوبصورتی کی پہچان عریانی بنتی جارہی ہے۔پس یا درکھنا چاہئے کہ خوبصورتی کی پہچان عریانی یا ظاہری حالت نہیں ہے بلکہ کچھ اور ہے۔اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو صحابہ کی ایک بحث کا ذکر کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول اور مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے درمیان آپس میں اس بات پر بحث چھڑ گئی۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ خوبصورتی کا پہچانا آسان نہیں ہے۔ہر شخص کی نگاہ حسن کا صحیح اندازہ نہیں کرسکتی۔یہ صرف طبیب ہی