خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 31
خطبات مسرور جلد 13 31 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جنوری 2015ء ہٹ جاتے ہیں۔میں نے دو واقعات ایسے بھی بتائے ہیں لیکن بہت سے ایمان میں مضبوطی والے ایسے بھی ہیں جو کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔بہر حال ان کو اس طرف توجہ دلانے کے لئے جماعتوں کو میں نے یہی کہا تھا کہ بیعتیں کروانے کے بعد مسلسل رابطے رکھیں اور ہمیشہ رابطوں کو مضبوط کرتے چلے جائیں۔وہاں بار بار جائیں تا کہ تربیتی پہلو بھی سامنے آتے رہیں اور تربیت ہوتی رہے۔اب افریقن ممالک میں بہت سارے ایسے علاقے ہیں جو بہت دُور دراز علاقے ہیں جہاں جنگلوں میں سے گزر کے جانا پڑتا ہے، وہاں رابطے بھی مضبوط نہیں رہتے یا بڑی دقت کے ساتھ وہاں رابطے ہوتے ہیں۔اس کی وجہ سے بڑا لمبا عرصہ ان جماعتوں سے یانئے احمدیوں سے تعلق نہیں رہتا۔پھر مبلغین اور معلمین کی بھی کمی ہے کہ وہ بھی بار بار جا ئیں تو رابطے ہوسکیں۔تکلیف اٹھا کے ہی چلے جائیں لیکن اس کمی کی وجہ سے وہاں جا بھی نہیں سکتے۔اس لئے بہت سی بیعتیں ہیں جیسا کہ میں نے کہا ضائع بھی ہو جاتی ہیں۔تو جماعتوں کو ، خاص طور پر ان ملکوں کی جماعتوں کو اس بات کا انتظام کرنا چاہئے کہ کم از کم شروع میں ایک سال خاص طور پر بہت توجہ دیں۔اس لئے میں نے خلافت کے پہلے سال میں ہی جماعتوں کو کہا تھا کہ بے شمار بیعتیں ضائع ہو رہی ہیں۔جو پرانی ہوئی ہوئی بیعتیں ہیں ان کا کم از کم ستر فیصد را بطے کر کے واپس لائیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے نتیجے میں جماعتوں نے خاص طور پر افریقہ میں کوششیں بھی کیں اور پھر جب رابطے ہوئے تو ان لوگوں نے شکوے کئے کہ تم بیعت کروا کر ہمیں چھوڑ کے چلے گئے تھے۔دل سے احمدی ہیں۔بہت سارے ایسے تھے جو دل سے احمدی تھے لیکن آگے احمدیت کی تعلیم کا نہیں پتا تھا۔تربیت کی کمی تھی۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں کی تعداد میں نئے رابطے ہوئے اور وہ لوگ واپس آئے اور اب تربیت کے لئے فعال نظام شروع ہے۔اس میں مزید مضبوطی کی ضرورت ہے۔رابطوں کی بحالی میں سب سے زیادہ کوشش گھانا نے کی ہے۔پھر نائیجیریا کا دوسرا نمبر آتا ہے۔اور اس طرح باقی افریقن ممالک ہیں۔تنزانیہ میں بہت زیادہ کمی ہے ان کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے رابطے زیادہ فعال کریں کیونکہ وہاں بھی کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں بڑی بیعتیں ہوئی تھیں۔ان ساروں کو تلاش کریں۔یورپ میں ہیں سال پہلے یا اس سے زیادہ عرصہ پہلے جب بوسنیا کے حالات خراب ہوئے ہیں تو جرمنی میں بہت بوسنین لوگ آئے تھے۔کہا جاتا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ کی تعداد میں بوسنین تھے جنہوں نے بیعت کی تھی۔لیکن جب وہ اپنے ملکوں میں واپس گئے۔رابطے ختم ہوئے تو ان کا پتا نہیں لگا کہ وہ کہاں ہیں۔اس لحاظ