خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 469 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 469

خطبات مسرور جلد 13 469 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 اگست 2015ء پس ایسے حالات میں بعض لوگوں کے ایسے رد عمل ہوتے ہیں۔کمزور ایمان والے مرتد ہو جاتے ہیں۔( جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ ایسی ہی حالت تھی اور مخلصین کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن بہت زیادہ جذباتی رنگ رکھنے والے جیسا کہ پروفیسر صاحب تھے تھوڑے سے جذباتی بھی اور فصیلے بھی اور وہ ایسی سوچ رکھنے والے خود بدلہ لینے کی بھی سوچ لیتے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو تعلیم ہے اور تربیت ہے جو ہمارے لئے اسوہ ہے اور ایک لائحہ عمل ہے اسے ہمیشہ ہمیں یا درکھنا چاہئے کہ ہم نے ہمیشہ صبر اور حوصلے سے کام لیتا ہے۔آج بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔انجام کار تو انشاء اللہ تعالیٰ وہی ہونا ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور صبر اور دعا سے کام لینے والے انشاء اللہ اس کے نظارے بھی دیکھیں گے۔بعض دنوں کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ کوئی دن اچھا ہے کوئی منحوس ہے۔کسی دن سفر کرو کسی میں نہ کرو۔بعض لوگ سوال کرتے رہتے ہیں، مجھ سے بھی پوچھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حوالہ بھی بعض دفعہ پیش کر دیا جاتا ہے یا حضرت اتاں جان کا حوالہ پیش کر دیا جاتا ہے۔حضرت اتاں جان کا حوالہ یہ تھا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا کہ منگل والے دن یا بعض اور دنوں میں انہوں نے مجھے سفر کرنے سے روکا۔ان کی کوئی خواب تھی یا وہم تھا تو وہ اس کا تقاضا تھا جس کی وجہ سے حضرت مصلح موعود نے لکھا ہے۔اصل میں تو دن کی کوئی اہمیت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بھی آپ نے اس کی ایک وضاحت فرمائی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے کسی نے کہا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے کسی دن کو منحوس کہا ہے۔کہنے والے نے حضرت مصلح موعودؓ کو کہا کہ آپ ہی نے تو کسی تقریب میں کہا تھا کہ منگل کے دن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو شاید کوئی الہام ہوا تھا یا کوئی اور وجہ تھی کہ آپ اسے نا پسند فرمایا کرتے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے تو ایک روایت کی تشریح کی تھی یہ تو نہیں کہا تھا کہ منگل کا دن منحوس ہے۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف ایک ایسی روایت منسوب کی جاتی ہے۔اس لئے میں نے بتایا تھا کہ اگر اس روایت کو درست تسلیم کیا جائے کہ شاید منگل کے دن سے آپ کو اس لئے تخویف کرائی گئی ہو کہ آپ کی وفات منگل کے دن ہونے والی تھی۔مگر بعض لوگوں نے اس مخصوص بات کو جو محض آپ کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی وسیع کر کے اسے ایک قانون بنالیا اور منگل کی نحوست کے قائل ہو گئے۔حالانکہ جو چیز خدا کی طرف سے ہواس کو نحوست قرار دینا بڑی بھاری نادانی ہوتی ہے۔