خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 467
خطبات مسرور جلد 13 467 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 اگست 2015ء کہ کچھ آپ کو بھی بھیج دوں۔چنانچہ کچھ تو قرض اتار دیا اور کچھ آپ کو بھیج رہا ہوں“۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 23 صفحہ 402) تو یہ ان کا اخلاص اور وفا اور قربانی کا جذبہ تھا۔پھر ایک جگہ حضرت مصلح موعود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہ کس طرح آپ کے دعوے کے بعد کہ آپ مسیح موعود ہیں اور اس لحاظ سے نبی اور رسول بھی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آپ کو یہ مقام ملا ہے، نہ کہ اپنی کسی قابلیت کی وجہ سے پھر بھی مسلمانوں کی اکثریت آپ کے خلاف ہو گئی۔اب تک ہم یہی نظارہ دیکھتے ہیں۔پھر حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ آپ نے تمام مذاہب کو جو چیلنج کیا تو اس کی وجہ سے عیسائی بھی اور ہندو بھی آپ کے خلاف ہو گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تذلیل کی بڑی کوششیں کی گئیں۔پر مقدمات قائم کئے گئے حتی کہ متواتر تین ماہ تک عام سرکاری رخصتوں کے علاوہ برابر روزانہ کئی کئی گھنٹے آپ کو عدالت میں کھڑا رہنا پڑتا۔ایک دن مجسٹریٹ نے اپنی دشمنی کی وجہ سے آپ کو پانی تک پینے کی اجازت نہیں دی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہم آج ان باتوں کو بھول گئے ہیں مگر اس زمانے کے مخلصین کے لئے یہ ایک بہت بڑا ابتلاء تھا۔وہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ سنتے تھے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور تیرے نہ ماننے والے دنیا میں ادنی اقوام کی طرح رہ جائیں گے۔مگر دوسری طرف دیکھتے تھے کہ ایک معمولی چار پانچ سو تنخواہ لینے والا ہند و مجسٹریٹ آپ کو کھڑا رکھتا ہے اور پانی تک پینے کی اجازت نہیں دیتا۔حتی کہ آپ کا کھڑے کھڑے سر چکرا جاتا اور پاؤں تھک جاتے۔کمزور ایمان والے حیران ہوتے ہوں گے کہ کیا یہی وہ شخص ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کے اس قدر وعدے ہیں۔غرضیکہ یہ بھی ابتلاء تھے۔بعض کے لئے اس لحاظ سے کہ یہ کتنی بیچارگی ہے اور بعض کے لئے اس لحاظ سے کہ وہ اپنے ایمان کا یہی اقتضاء سمجھتے تھے۔ان کے ایمان کا تقاضا یہی تھا کہ ایسے مخالفین کو مار ہی ڈالیں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے وہ نظارہ یاد ہے جس دن ایک کیس کا فیصلہ سنایا جانا تھا کہ ہماری جماعت میں ایک دوست تھے جن کو پر وفیسر کہا جاتا تھا۔پہلے جب وہ احمدی نہیں تھے تو تاش وغیرہ کے کھیل بڑے اعلیٰ پیمانے پر کھیلا کرتے تھے یعنی جوا کھیلتے تھے۔اچھے ہوشیار آدمی تھے اور اسی طرح تاش کے کھیل سے چار پانچ سو روپیہ ماہوار کما لیتے تھے۔مگر احمدی ہونے پر انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا۔( یہ بھی احمدیوں کے لئے ایک