خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 461
خطبات مسرور جلد 13 461 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء تعالٰی عنہ کی ایک مجلس سوال و جواب میں شامل ہوئے۔واپسی کا کرایہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے قادیان سے امرتسر اور وہاں سے لاہور تک قریباً95 کلو میٹر کا فاصلہ پیدل کیا۔19 سال کی عمر میں نظام وصیت میں شامل ہو گئے۔1937ء میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی خدمت میں لکھا کہ تحریک جدید کی شمولیت کی میعاد سمبر 1936ء میں ختم ہو چکی ہے۔میں اُس وقت طالبعلم تھا۔اب مجھے کچھ آمد ہے۔مجھے بھی استثنائی طور پر تحریک جدید میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔اس پر حضرت خلیفۃ اسیح الثانی نے آپ کو اور ان تمام بیروز گار طلباء کو جو برسر روزگار ہو گئے تھے اجازت مرحمت فرمائی۔پھر مولوی خورشید احمد صاحب پر بھا کر نے سندھ میں بھی جماعتی زمینوں پر کام کیا۔1947ء کے شروع میں زندگی وقف کر کے قادیان پہنچ گئے۔اسی سال ہندوستان تقسیم ہوا جس کے نتیجہ میں درویشی کی سعادت نصیب ہوئی۔دور درویشی کو انتہائی صبر اور شکر اور وفا کے ساتھ نبھایا۔دیہاتی مبلغ کے طور پر بھارت کے صوبہ یوپی میں دعوت وتبلیغ کا کام بہت اچھے رنگ میں کیا۔میدان تبلیغ سے واپس قادیان آنے کے بعد تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمد یہ قادیان میں بطور استادخدمت کی توفیق پائی۔نظارت دعوت تبلیغ کے تحت تین سال تک ہندی کی تعلیم حاصل کی اور رتن، بھوشن اور پر بھا کر ہندی کی تین ڈگریاں حاصل کیں۔وید، بائبل ، گیتا،گرو گرنتھ صاحب کا اچھا مطالعہ رکھتے تھے۔ہندوازم، سکھ ازم اور عیسائی ازم پر تحقیقی مضامین لکھتے رہے اور قرآن کریم کا ہندی ترجمہ کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔ہفت روزہ اخبار بدر قادیان میں آپ کے مضامین اس وقت سے طبع ہونے شروع ہوئے جب 1952ء میں تقسیم ملک کے بعد اخبار دوبارہ جاری ہوا اور یہ سلسلہ 2013 ء تک جاری رہا۔گویا یہ سلسلہ مضامین ساٹھ سال پر محیط ہے۔اس کے علاوہ سلسلے کے دیگر رسائل جن میں مشکوۃ ، راہ ایمان شامل ہیں ان میں بھی وقتاً فوقتاً آر کے مضامین شائع ہوتے رہے۔نیز دیگر ملکی اخبارات میں بھی آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے جن میں روز نامہ ہند سماچار، ملاپ اور کشمیر کے اخبارات شامل ہیں۔مرحوم کا ایک کتابچہ حکومت وقت اور احمدی مسلمان 1963 ء میں نظارت دعوت و تبلیغ کے تحت شائع ہوا اور بہت مقبول ہوا۔آپ کے مضامین اور تکمیں بڑی اعلی پائے کی ہوتی تھیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع " نے بھی ان کی بڑی تعریف کی اور واقعی پڑھنے میں پتا لگتا تھا کہ دل سے نکل رہی ہے۔علمی مضامین ہوتے تھے۔آپ بہت خود دار انسان تھے۔کبھی کسی کا محتاج بنا پسند