خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 459 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 459

خطبات مسرور جلد 13 459 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء تیسرے دن میں نے اجازت چاہی تو ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ابھی ٹھہر ہیں۔پھر عرض کرنا مناسب نہ سمجھا کہ آپ ہی فرمائیں گے۔اس پر ایک مہینہ گزر گیا۔ادھر مسلیں میرے گھر میں تھیں۔کام بند ہو گیا اور سخت خطوط آنے لگے۔مگر یہاں یہ حالت تھی کہ ان خطوط کے متعلق و ہم بھی نہ آتا تھا۔( کہتے ہیں میں سب کچھ بھول گیا۔خطوط آتے ہیں آتے رہیں۔) حضور کی صحبت میں ایک ایسا لطف اور محویت تھی کہ نہ نوکری کے جانے کا خیال تھا اور نہ ہی کسی باز پری کا اندیشہ۔آخر ایک نہایت ہی سخت خط وہاں سے آیا۔کہتے ہیں میں نے وہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے رکھ دیا۔آپ نے پڑھا اور فرمایا لکھ دو ہمارا آنا نہیں ہوتا۔( ہم نہیں ابھی آ سکتے۔) میں نے وہی فقرہ لکھ دیا۔اس پر ایک مہینہ اور گزر گیا تو ایک دن فرمایا کتنے دن ہو گئے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ ہی گننے لگے اور فرمایا اچھا آپ چلے جائیں۔میں چلا گیا اور کپورتھلہ پہنچ کر لالہ ہر چند داس مجسٹریٹ کے مکان پر گیا۔( مجسٹریٹ کی عدالت میں ہی ملازمت تھی ) تا کہ معلوم کروں کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے۔( نوکری میں رکھنا ہے، نکال دیا ہے، جرمانہ کرنا ہے، کیا ہوا؟ جب ان کے گھر گیا تو ) انہوں نے کہا منشی جی آپ کو مرزا صاحب نے نہیں آنے دیا ہوگا۔( یہی بات مجسٹریٹ نے کی ) میں نے کہا ہاں۔تو مجسٹریٹ صاحب کہنے لگے ان کا حکم مقدم ہے۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا۔) تو حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ میاں عطاء اللہ صاحب کی روایت میں اس قدر زیادہ ہے کہ منشی صاحب مرحوم نے فرمایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ لکھ دو کہ ہم نہیں آ سکتے تو میں نے وہی الفاظ لکھ کر مجسٹریٹ کو بھجوا دیئے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہ ایک گروہ تھا جس نے عشق کا ایسا اعلیٰ درجے کا نمونہ دکھایا کہ ہماری آنکھیں اپنی پچھلی جماعتوں کے آگے پیچی نہیں ہوسکتیں۔ہماری جماعت کے دوستوں میں کتنی ہی کمزوریاں ہوں، کتنی ہی غفلتیں ہوں لیکن اگر حضرت موسیٰ کے صحابی ہمارے سامنے اپنا نمونہ پیش کریں تو ہم ان کے سامنے اس گروہ کا نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔اسی طرح عیسی کے صحابی اگر قیامت کے دن اپنے اعلیٰ کارنامے پیش کریں تو ہم فخر کے ساتھ ان کے سامنے اپنے ان صحابہ کو پیش کر سکتے ہیں۔اور یہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ میری امت اور مہدی کی امت میں کیا فرق ہے تو درحقیقت ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے فرمایا ہے۔سیہ وہ لوگ تھے جو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ