خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 452 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 452

خطبات مسرور جلد 13 452 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء ہے۔انہی علماء کی وجہ سے مختلف تنظیمیں بنی ہوئی ہیں جنہوں نے ظلم وتعدی کے بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر رحم فرمائے۔پھر اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ کس طرح ہمیں اپنی حالتوں کو درست کرتے ہوئے اپنے ایمان میں اضافہ کرنا چاہئے اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا چاہئے ، حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے ایک جگہ فرمایا کہ اگر آپ لوگ تقویٰ و طہارت اپنے اندر پیدا کریں اور دعاؤں اور ذکر الہی کی عادت ڈالیں اور تہجد اور درود پر التزام رکھیں تو اللہ تعالیٰ یقیناً آپ لوگوں کو بھی رویائے صادقہ اور کشوف سے حصہ دے گا اور اپنے الہام اور کلام سے مشرف کرے گا۔اور زندہ معجزہ درحقیقت وہی ہوتا ہے جو انسان کی اپنی ذات میں ظاہر ہو۔بیشک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معجزے بھی بڑے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے بھی بڑے ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزے بھی بڑے ہیں مگر جہاں تک انسان کی اپنی ذات کا سوال ہوتا ہے اس کے لئے وہی معجزہ بڑا ہوتا ہے جس کا وہ اپنی ذات میں مشاہدہ کرتا ہے۔" ( آجکل بھی لوگ یہی سوال کرتے ہیں۔اگر معجزے دیکھنے ہیں تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ایمان میں زیادتی اور ذاتی نشان کی مثال دیتے ہوئے آپ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ) صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو دیکھ لو۔انہوں نے جب احمدیت قبول کی اور وہ قادیان میں کچھ عرصہ ٹھہرنے کے بعد کا بل واپس گئے تو وہاں کے گورنر نے انہیں بلایا اور کہا کہ توبہ کرلو۔انہوں نے کہا میں تو بہ کس طرح کروں۔جب میں قادیان سے چلا تھا تو اسی وقت میں نے رویاء میں دیکھا تھا کہ مجھے ہتھکڑیاں پڑی ہوئی ہیں۔پس جب مجھے خدا نے کہا تھا کہ تمہیں اس راہ میں ہتھکڑیاں پہنی پڑیں گی تو اب میں ان ہتھکڑیوں کواتر وانے کی کس طرح کوشش کروں۔یہ ہتھکڑیاں میرے ہاتھوں میں پڑی رہنی چاہئیں تا کہ میرے رب کی بات پوری ہو۔اب دیکھو انہیں یہ وثوق اور یقین اس لئے حاصل ہوا کہ انہوں نے خود ایک خواب دیکھا تھا۔اسی طرح خواہ کوئی کتنا ہی قلیل علم رکھتا ہوا گر وہ کوئی خواب دیکھ لے تو بزدلی کی وجہ سے وہ اس کو چھپالے تو اور بات ہے ورنہ اپنی جھوٹی خواب پر بھی اسے اس سے زیادہ یقین ہوتا ہے۔“ الفضل 22 جولائی 1956 ء صفحہ 5 جلد 45/10 نمبر 169 ) پس اگر انسان کا ایمان مضبوط ہو اور خدا تعالیٰ سے تعلق ہو تو پھر انسان دنیا داروں سے نہیں ڈرتا۔اس کی ایک اور مثال دیتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ حضرت صوفی احمد جان صاحب